ٹرمپ کی ٹیرف وار کا نتیجہ، امریکی تجارتی خسارے میں بے پناہ اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
جمعرات کو جاری کردہ امریکی سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2025ء میں ملک کا تجارتی خسارہ مارکیٹ کی توقعات سے نمایاں طور پر بڑھ گیا اور 70.3 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ جس کی وجہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ تھا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف وار کا الٹا نتیجہ سامنے آ گیا۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف وار کے باوجود امریکی تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ امریکی سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2025ء میں ملک کا تجارتی خسارہ مارکیٹ کی توقعات سے نمایاں طور پر بڑھ گیا اور 70.
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر میں امریکی برآمدات 1.7 فیصد کم ہوکر 287.3 بلین ڈالر رہیں، جب کہ درآمدات 3.6 فیصد بڑھ کر 357.6 بلین ڈالر ہو گئیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔امریکی تجارتی خسارے میں اضافہ اس وقت ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت ملک کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف ٹیرف کی سخت ترین جنگ شروع کی۔ اس پالیسی کا بیان کردہ ہدف تجارتی خسارے کو کم کرنا اور امریکی زرمبادلہ میں توازن بحال کرنا تھا تاہم ٹرمپ کی پالیسی مکمل طور پر ناکام رہی اور اس کا الٹا نتیجہ شدید تجارتی خسارے کی صورت میں سامنے آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تجارتی خسارہ تجارتی خسارے بلین ڈالر بڑھ گیا ٹرمپ کی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔