مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے امیگریشن عملے کی مبینہ ملی بھگت سے تارکین وطن کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بیرون ممالک و یورپ بجھوانے کے لیے سہولت کاری و انسانی سمگلنگ کے میگا سکینڈل کا انکشاف ہوا۔چار مسافروں سے رشوت کے عوض امیگریشن کلئیر کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے امیگریشن کے افسر محمد عالم ،ایف سی انضمام الحق اور زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے رشوت ستانی و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔
حکام کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ڈائریکٹر ایف ایک اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کے غیر قانونی سرگرمیوں و انسانی اسمگلروں سے روابط کی اطلاع ملی۔ جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نے خود نگرانی کرتے ہوئے تحقیقات شروع کیں توالزامات سچ نکلنے۔الزامات سچ ہونے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی سربراہی میں ٹیم نے چھاپہ مارا اور آئی ائی اے امیگریشن کے اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور زونل آفس میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا جس میں رشوت لیکر باہر بھجوائے گئے 4 مسافروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کی جانب سے سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیاگیا کہ اطلاع موصول ہوئی کہ عمرہ ویزہ پر سفر کرنے والے چند مسافر یورپ جانے کے لیے غیر قانونی طور پر سمندری راستے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اطلاع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ٹیم نے اسلام آباد سے دمام اور سعودی عرب جانے والی پرواز کے دوران چھاپہ مارا تو پرواز پر پشاور سے تعلق رکھنے والے مسافر کامران خان اور زیاد خان ،باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب اور یاسین خان امیگریشن کانٹر سے کلیرینس پاکر طیارے میں سوار ہونے کے لیے ویٹنگ لاونج میں تیار تھے۔متن مقدمہ کے مطابق جہاں چھاپہ مار کر چاروں مسافروں کو آف لوڈ کرکے پوچھ گچھ کی گی، انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ تمام مسافر عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہے تھے اور کانٹر کے اہلکار انضمام الحق (ایف سی) نے انہیں مزید جانچ پڑتال کے لیے سیکنڈ لائن افسران کے حوالے کیے بغیر کلیئر کیا۔
مسافروں نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ ان سے یونس خان نامی ایجنٹ نے رابطہ کرکے سعودی عرب، مصر، لیبیا کے راستے یورپ میں داخلے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بورڈنگ پاسز کے اجرا کے بعد ایجنٹوں نے انہیں خاص طور پر ہدایت کی کہ وہ کلیئرنس کے لیے امیگریشن کانٹر نمبر 13 جہاں انضمام الحق ایف سی تعینات ہوگا اس پر جائیں تاکہ مزید جانچ پڑتال اور پروفائلنگ سے بچا جا سکے۔متن مقدمہ کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن اہلکار انضمام الحق نے انکشاف کیا کہ اے ایس آئی محمد عالم جو ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن شفٹ اے اراییول میں بطور کانٹر اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے کہنے پر کلئیر کیا،ادھر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا کہناتھاکہ ایف آئی اے میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، غیرقانونی کاموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیرئیر کالج کی سوچ اور نظریہ محنت اور ایمانداری ہے، جاوید انتظار بانی پی ٹی آئی کی 2024میں ڈیل فائنل ہو چکی تھی، اختیار ولی خان کا دعوی حملے کی تیاری، دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا ٹینشن، گالم گلوچ کا ماحول ختم کرکے سب سیاسی رہنما ڈائیلاگ کی طرف آئیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مسافروں کو رشوت لے کر ایف آئی اے کو رشوت
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔