سندھ طاس معاہدے پر سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک)سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات پر بحث کے لیے سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس کا انعقادپاکستان کی میزبانی میں ’’معاہدات کی حرمت کے تحفظ‘‘ کے موضوع پر اَریا فارمولہ اجلاس 30 جنوری کو منعقد ہوا بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے حوالے سے اجلاس میں تمام خطوں سے چالیس رکن ممالک شریک ہوئےسلامتی کونسل کے آریا فارمولہ اجلاس میں بھارت شریک نہ ہوااَریا فارمولہ اجلاس سلامتی کونسل کا غیر رسمی اور خفیہ فورم ہےآریا فارمولہ اجلاس کو کوئی بھی رکن ملک طلب کر سکتا ہےاس فورم میں بین الاقوامی تنظیموں، غیر ریاستی اداروں اور سلامتی کونسل سے باہر کے ممالک کے اعلیٰ حکام سے براہِ راست تبادلہ خیال کیا جاتا ہےاجلاس میں اقوامِ متحدہ آفس آف لیگل افیئرز کے ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے بریفنگ دی بین الاقوامی معاہدے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں اور عالمی تعلقات میں استحکام کا بنیادی ذریعہ ہیں، مقررینبین الاقوامی قانون کو کمزور کرنا اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے، مقررین کا انتباہاجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے، آریا فارمولہ اجلاسسندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں، پاکستاناجلاس میں شریک رکن ممالک نے سندھ طاس معاہدے جیسے معاہدات کو استحکام و تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر قرار دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ریا فارمولہ اجلاس سندھ طاس معاہدے سلامتی کونسل اجلاس میں
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔