یوتھ کانگریس کارکنان کا امریکا بھارت معاہدے پر قمیض اتار کر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بھارت میں منعقدہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کے موقعے پر اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب یوتھ کانگریس کے کارکنان نے مبینہ بھارت امریکا معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی شرٹس اتار کر مظاہرہ کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اہم ٹیکنالوجی معاملات میں قومی مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگی، نریندر مودی
انڈین یوتھ کانگریس کے کارکنان نے سمٹ کے مقام کے قریب جمع ہو کر نعرے بازی کی اور دعویٰ کیا کہ حکومت امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ سمجھوتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لا رہی۔ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا تاکہ سمٹ کی کارروائی متاثر نہ ہو۔
یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا جب بھارت عالمی سطح پر خود کو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے سے قبل پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
مزید پڑھیے: ’میک اِن انڈیا‘ کہاں گیا؟ امریکا سے تجارتی معاہدے پر کانگریس کی تنقید
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو حالیہ برسوں میں بھارت اور امریکا کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے شامل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات بھارت کو عالمی سپلائی چین میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
#WATCH | Delhi | National President of the Indian Youth Congress, Uday Bhanu Chib, says, "Today, Youth Congress members went to the AI Summit and raised slogans, 'PM is compromised.
— ANI (@ANI) February 20, 2026
دوسری جانب اپوزیشن خصوصاً کانگریس سے وابستہ حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ غیر شفاف شرائط یا غیر متوازن معاہدے طویل مدت میں ملکی خودمختاری اور مقامی صنعت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
احتجاج کرنے والے کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سمٹ کی مرکزی تقریبات سیکیورٹی انتظامات کے باوجود معمول کے مطابق جاری رہیں۔
مزید پڑھیں: مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا
حکومتی نمائندوں نے احتجاج کو سیاسی اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور تمام معاہدے قومی مفاد کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین یوتھ کانگریس انڈین یوتھ کانگریس کا مظاہرہ بنا قمیض احتجاج ٹاپ لیس احتجاج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈین یوتھ کانگریس انڈین یوتھ کانگریس کا مظاہرہ ٹاپ لیس احتجاج یوتھ کانگریس کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔