ایران کو جوہری معاہدے پر لانے کیلئے ٹرمپ محدود فوجی کارروائی کرسکتے ہیں، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ کرنے کے لیے محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں ایران کے فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس محدود حملے کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ نئے جوہری معاہدے کو قبول کرے۔ اگر ایران معاہدہ تسلیم نہ کرے تو کارروائی کو وسیع جنگ تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںخطے میں جنگ کے خدشات، پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت
صدر ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
گزشتہ روز ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔