دہلی 2020 فسادات کیس: بھارت میں عدالتی نظام اور اقلیتوں کے حقوق پر سوالات
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات، جو شہریت ترمیمی قانون اور قومی رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے، آج بھی بھارت کے عدالتی نظام اور اقلیتوں کے حقوق پر ایک سنگین امتحان بنے ہوئے ہیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت مسلمان تھی، اور تقریباً 6 سال بعد بھی مقدمات کی پیچیدہ قانونی کارروائی اور طویل حراست تنازعات کا سبب بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات
دہلی فسادات کے مقدمات، خاص طور پر ’بڑی سازش‘ کیس میں اہم ملزمان اب بھی غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ضمانت کی پیچیدہ کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ستمبر 2025 میں متعدد کارکنوں کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کیے تھے، لیکن بار بار ملتوی ہونے والی سماعتوں اور قانونی تاخیر نے مقدمات کی طویل قبل از مقدمہ حراست پر سوالات کو جنم دیا ہے۔
تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ عدالتی کارروائی میں امتیازی رویہ نظر آ رہا ہے، کیونکہ مرکزی سازش کے کیس میں تحقیق زیادہ تر مسلم طلبا اور کارکنوں پر مرکوز رہی، جبکہ دیگر ہندو افراد کی شمولیت والے مقدمات میں مختلف نتائج آئے ہیں اور بعض کو ثبوت کی کمی پر بری کر دیا گیا۔ طویل حراست اور مقدمات کی سست پیشرفت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ تاثر دیا ہے کہ قانونی عمل کو خود تنبیہی یا دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی میں ہولناک سانحہ: بیٹے نے ماں، باپ اور بھائی کو قتل کر ڈالا
طلبا بشمول عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ اور میران حیدر کو سخت ضمانت پابندیوں والے UAPA کے تحت چارج کیا گیا۔ عمر خالد اب تک 5 سال سے زائد مدت سے حراست میں ہیں اور مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ، ڈیجیٹل شواہد اور محفوظ گواہ بیانات کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، جبکہ وکلا نے بار بار شواہد کی صداقت اور مظاہروں کے بیانات کو سازش کے ثبوت کے طور پر استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔
بین الاقوامی تنظیمیں جیسے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان مقدمات کو بھارت میں شہری آزادیوں کے محدود ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کارروائیاں شواہد کی بنیاد پر اور عدالتی نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔
تقریباً 6 سال بعد بھی اہم ملزمان کا غیر حل شدہ موقف، بار بار ملتوی ہونے والی سماعتیں اور سخت قانونی شرائط اس کیس کو بھارت میں عدالتی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ اور شہری حقوق کی بحث میں ایک اہم حوالہ بناتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھارتی اقلیتیں بھارتی عدالتی نظام دہلی فسادات گل فشاں فاطمہ میران حیدر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھارتی اقلیتیں بھارتی عدالتی نظام دہلی فسادات گل فشاں فاطمہ
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔