فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات، جو شہریت ترمیمی قانون اور قومی رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے، آج بھی بھارت کے عدالتی نظام اور اقلیتوں کے حقوق پر ایک سنگین امتحان بنے ہوئے ہیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت مسلمان تھی، اور تقریباً 6 سال بعد بھی مقدمات کی پیچیدہ قانونی کارروائی اور طویل حراست تنازعات کا سبب بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

دہلی فسادات کے مقدمات، خاص طور پر ’بڑی سازش‘ کیس میں اہم ملزمان اب بھی غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ضمانت کی پیچیدہ کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ستمبر 2025 میں متعدد کارکنوں کی ضمانت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کیے تھے، لیکن بار بار ملتوی ہونے والی سماعتوں اور قانونی تاخیر نے مقدمات کی طویل قبل از مقدمہ حراست پر سوالات کو جنم دیا ہے۔

تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ عدالتی کارروائی میں امتیازی رویہ نظر آ رہا ہے، کیونکہ مرکزی سازش کے کیس میں تحقیق زیادہ تر مسلم طلبا اور کارکنوں پر مرکوز رہی، جبکہ دیگر ہندو افراد کی شمولیت والے مقدمات میں مختلف نتائج آئے ہیں اور بعض کو ثبوت کی کمی پر بری کر دیا گیا۔ طویل حراست اور مقدمات کی سست پیشرفت نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ تاثر دیا ہے کہ قانونی عمل کو خود تنبیہی یا دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دہلی میں ہولناک سانحہ: بیٹے نے ماں، باپ اور بھائی کو قتل کر ڈالا

طلبا بشمول عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ اور میران حیدر کو سخت ضمانت پابندیوں والے UAPA کے تحت چارج کیا گیا۔ عمر خالد اب تک 5 سال سے زائد مدت سے حراست میں ہیں اور مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ، ڈیجیٹل شواہد اور محفوظ گواہ بیانات کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، جبکہ وکلا نے بار بار شواہد کی صداقت اور مظاہروں کے بیانات کو سازش کے ثبوت کے طور پر استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

بین الاقوامی تنظیمیں جیسے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان مقدمات کو بھارت میں شہری آزادیوں کے محدود ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کارروائیاں شواہد کی بنیاد پر اور عدالتی نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔

تقریباً 6 سال بعد بھی اہم ملزمان کا غیر حل شدہ موقف، بار بار ملتوی ہونے والی سماعتیں اور سخت قانونی شرائط اس کیس کو بھارت میں عدالتی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ اور شہری حقوق کی بحث میں ایک اہم حوالہ بناتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھارتی اقلیتیں بھارتی عدالتی نظام دہلی فسادات گل فشاں فاطمہ میران حیدر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمنیسٹی انٹرنیشنل بھارتی اقلیتیں بھارتی عدالتی نظام دہلی فسادات گل فشاں فاطمہ

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار