عمران خان کی منتقلی یا ڈیل کی کوئی بات نہیں ہوئی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کو بیرون ملک یا بنی گالہ منتقل کرنے کے حوالے سے کسی سطح پر کبھی کوئی گفتگو نہیں ہوئی اور ایسی باتیں محض افواہیں ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ممکن ہے سہولتوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کو اپروچ کیا گیا ہو، تاہم ڈیل کی خبریں محض سیاسی مقاصد کے لیے پھیلائی جاتی ہیں،مارکیٹ میں یہ پراڈکٹ رکھنے کے لیے ڈیل کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں”، اور اب اس پراڈکٹ کے پلے کچھ نہیں رہا، اس لیے ڈیل کی باتیں کر کے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی نوکری خطرے میں ہے اور انہوں نے اپنی پوزیشن بچانے کے لیے مبینہ طور پر رہائی فورس کا اعلان کیا ہے، ایسی کوئی فورس آئینی اور قانونی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ وفاق کے سوا کسی کو مسلح فورس بنانے کا اختیار حاصل نہیں۔
بین الاقوامی معاملات پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ عالمی اجتماع میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریف کی اور پاک فوج کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا، وزیراعظم کا حالیہ دورۂ امریکا پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہوا اور اس سے عالمی سطح پر ملک کا تشخص بہتر ہوا ہے۔
وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں فلسطینیوں کی آبادکاری کے لیے مختلف کمٹمنٹس سامنے آئی ہیں اور امید ہے کہ غزہ دوبارہ آباد ہوگا اور وہاں فلسطینیوں کو بسایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کی کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔