رشوت لے کر امیگریشن کلیئر کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ایف آئی اے کے 2 اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
مسافروں سے رشوت لے کر امیگریشن کلیئر کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر 2 ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کے مطابق مسافروں سے رشوت لے کر امیگریشن کلیئر کرنے کے الزام میں ایف آئی اے نے 2 اہلکاروں کے ہمراہ 4 مسافروں کو بھی مقدمے میں نامزد کیا ہے جبکہ دونوں ایف آئی اے اہلکاروں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ اینٹی کرپشن سیل ونگ کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق تحقیقات کے دوران ایک ایف آئی اے اہلکار نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک ہفتے میں 12 مسافروں سے پیسے لے کر امیگریشن کی گئی۔
ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے کہا ہے کہ غیرقانونی کاموں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور محکمے میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لے کر امیگریشن ایف ا ئی اے ایف آئی اے ایف ا ئی ا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔