تمام جامعات میں انڈر و پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں مصنوعی ذہانت کورس لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:اعلی تعلیمی کمیشن پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی تمام سرکاری اور نجی جامعات میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا لازمی کورس شامل کیا جائے گا۔ یہ کورس تین کریڈٹ آور کا ہوگا اور تعلیمی سیشن 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الحق کی جانب سے جاری مراسلے میں جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر پروگرام میں AI کورس کو لازمی شامل کریں، 21ویں صدی میں مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہی ہے، جو تعلیم، صحت، معیشت اور انتظامی شعبوں میں جدت کو فروغ دے رہی ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ طلبہ کو AI کے بنیادی تصورات کی سمجھ دینا ضروری ہے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو ذمہ دارانہ اور اخلاقی انداز میں استعمال کر سکیں۔ کورس مختلف انداز میں متعارف کروایا جا سکتا ہے، چاہے بطور اختیاری مضمون، بین الشعبہ جاتی کورس یا کسی متعلقہ مضمون کے ڈھانچے کے تحت۔
ایچ ای سی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی معیارات کے مطابق تیار کرنے اور طلبہ کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے مہارتیں فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تمام جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کورس کی تیاری اور نصاب کے نفاذ کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ تعلیمی سیشن 2026 کے آغاز تک یہ کورس طلبہ کے لیے دستیاب ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔