Express News:
2026-07-24@01:06:05 GMT

ہمالیہ سے الپس تک، ایک لسانی پُل

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

سفارت کاری محض لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ جذبوں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے دورہ آسٹریا کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان نے اپنی ’’جرمن‘‘ لسانی مہارت کو بروئے کار لا کر ویانا کے سرد ایوانوں میں جو گرم جوشی پیدا کی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ’’ زبان‘‘ ہزاروں میل کے فاصلے مٹا سکتی ہے، اگرچہ یہ ہنر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ہی جرمن زبان بولنے والے ملکوں پر آزمایا جاتا تو آج ہمالیہ اور الپس کے درمیان معاشی شاہراہیں پہلے تعمیر ہو چکی ہوتیں۔ مگر موجودہ پیش رفت خواہ وہ جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت ہو یا سیاحت میں تعاون کی خواہش اور تجارت سرمایہ کاری، آئی ٹی، صحت، انسانی ترقی کے حوالے سے ایم او یوزکو جلد حتمی شکل دینے کی بات ہو۔

وزیر اعظم نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ملک کو عالمی برادری میں باعزت مقام دلانے کی سمت میں اہم ہے۔ جرمن زبان کی وہ گفتگو دراصل ایک پکار تھی۔ ایک ایسی پکار جس نے ویانا سے لے کر اسلام آباد تک کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کے یہ الفاظ ’’پاکستان اب آپ لوگوں کے کاروبار کے لیے کھلا ہے‘‘ جب جرمن زبان کی مٹھاس کے ساتھ سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہے تھے تو وہاں کے سرمایہ کار، تاجر کس اپنائیت کی نظر سے وزیر اعظم کو دیکھ رہے تھے۔

اب یہ ہماری اپنی اہلیت پر منحصر ہے کہ ہم اس دعوت کو اس یورپی معیار کے مطابق ڈھالیں، جس کا خواب آسٹروی سامعین کو دکھایا گیا ہے، کیونکہ وزیر اعظم کی جرمن گفتگو نے اہل ویانا کے دل جیت لیے ہیں۔ اب اگر ان ایم او یوز کو حقیقی رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے تو ہمارے باصلاحیت طالب علم وہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوں گے۔ آئی ٹی، ہماری کوڈنگ اور آسٹریا کی انجینئرنگ مل کر ایک نیا ڈیجیٹل شاہکار تخلیق کریں گی۔گلگت، سوات، چترال میں جب سیاحت کے شعبے میں ’’آسٹروی‘‘ سرمایہ اور ہنر تجربہ مل کر کام کریں گے تو ان کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں کے پہاڑ ان کے الپس پہاڑ جیسے ہوں گے اور یہاں کا لیڈر ان کی زبان بولنے والا۔

آج کا پاکستان آسٹریا کے ساتھ مل کر تعلیم ، صحت، سیاحت، انسانی وسائل، آئی ٹی، تجارت، سرمایہ کاری کی ترقی کے لیے جو نیا باب کھولنا چاہ رہا ہے، اس میں جرمن زبان کی چاشنی نے ایک نیا رنگ بکھیر دیا ہے۔ پاکستان اور آسٹریا کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلا جائے۔

حکومت پاکستان نے آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت جوکہ اس وقت بہت ہی کم ہے اسے بڑھانے کے لیے ’’ بزنس ٹو بزنس‘‘ رابطوں کو فعال کرنے اور تجارتی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی ترقی، صحت و سیاحت کے ایم او یوز پر جب دستخط ہو جائیں گے تو یہ محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کے مقدر کو بدلنے والا عہد نامہ ہوگا۔

پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کے لیے آسٹریا کی حمایت نے یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام میں ایک سچا ہم سفر ہے۔ آسٹریا کے پاس پہاڑوں کو سنوارنے کا فن ہے اور ہمارے پاس دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں، اگر ہم آسٹریا کے ماڈل کو شمالی علاقہ جات میں نافذ کر دیں تو سیاحت کے میدان میں نوبل شاہکار بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم کی ’’جرمن‘‘ زبان میں گفتگو نے اس سرد مہری کو ختم کر دیا ہے جو اکثر مترجمین کے درمیان کھو جاتی ہے۔ پاکستان اب صرف جغرافیائی نہیں بلکہ ایک ’’گلوبل بزنس حب‘‘ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزیر اعظم پاکستان اور آسٹریا کے چانسلر نے دونوں ممالک کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

اس موقع پر دونوں فریقین نے زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم نے سب سے اہم یہ بات کی کہ پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کو آسٹریا میں ملازمتوں تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت کو واضح کیا۔ وزیر اعظم نے آسٹریا کی کمپنیوں کو اپریل میں اسلام آباد میں یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔

انھوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ ایک موقع پر انھوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں۔ حکومت ان کی میزبانی اور ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ اب یہ حکومت پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کی کاوشیں کرتی ہے کہ آسٹریا کے سرمایہ کار بھی پاکستان کا رخ کریں، یہاں پر ان کو ہر طرح کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ کیونکہ ہمالیہ اور الپس دونوں کے درمیان بہت سی باتیں قدر مشترک ہیں جس میں اگر جرمن زبان کو شامل کر دیا جائے تو ایک لسانی پُل کا کام کرے گا اور پھر فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے سرمایہ کار کے درمیان آسٹریا کے آسٹریا کی ایم او

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )  پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے  انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی  تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے  پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔

وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید  کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ