Express News:
2026-06-02@23:35:16 GMT

اپنا گریباں چاک

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت کمال تحریر ہے۔ کتاب کی پیشانی پرا ن کی جاذب نظر تصویر موجود ہے۔ جس سے محترم جاوید اقبال کی دانائی ‘ روشنی میں چھن کر سامنے آ رہی ہے۔ ’’اپنا گریباں چاک‘‘ صرف ایک نسخہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا فسانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف کئی مرتبہ رہا۔ وہ سال میں ایک یا دو برس ‘ ایڈمنسٹریو اسٹاف کالج ‘ لیکچر دینے آتے تھے۔

ان کے الفاظ میں بھی دلیل اور تاریخ کی رم جھم بھرپور طور پر محسوس ہوتی تھی۔ علامہ اقبال کا فرزند ہونا تو خیرایک محترم بات ہے ۔ مگر اس کے علاوہ‘ جاوید اقبال بذات خود علم کا ایک بھر پور خزانہ تھے۔ قانون‘ تاریخ‘ فلسفہ اور سماجی رویوں سے لبالب فیض یاب انسان ۔ طالب علم کا منصب تو نہیں ہے کہ فرزند اقبال کی تحریر پر کچھ لکھ سکے۔ مگر چنداقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کے ذہن کی متعدد گرہیں کھل جائیں گی۔ بہت سی فکری پگڈنڈیاں‘ سیدھے رستہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔

 دوسرا خط: میںنے تقریباً سات برس کی عمر میں اپنے والد کو پہلا خط لکھا تھا جب انھیں انگلستان سے گراموفون باجا لانے کی فرمائش کی تھی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد انھیں دوسرا خط تحریر کر رہا ہوں۔ اس مرتبہ وہ اگلے جہان میں ہیں اور مجھے اپنے قومی تشخص اور ’’اسلامی‘‘ریاست کے بارے میں ان سے رہبری لینا مقصود ہے۔

والد مکرم۔ السلام علیکم!

نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے میں آپ کی اجازت کے ساتھ چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی تھی اس میں مولانا مدنی کا موقف تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں‘ لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’’قوم‘‘ اور ’’ملت‘‘ کے ایک ہی معانی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلک اشتراک ایمان سے بنی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی ’’قومیت ‘‘ ہے اور ’’وطنیت‘‘ بھی۔

خودکلامی: میں نماز کے بعد دعا رسماً مانگتا ہوں۔ آئین قدرت سے ہٹ کر دعا کی قبولیت کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ میرے مرنے کے بعد دنیا یونہی قائم رہے گی‘ میں قیامت پر یقین رکھتا ہوں۔ کائنات میں قیامتیں آتی رہتی ہیں۔ ہر لحظہ کوئی نہ کوئی کہکشاں مٹ جاتی ہے‘ ستاروں کے جھرمٹ فنا ہو جاتے ہیں‘ سورج بجھ جاتے ہیں یا نظام ہائے شمسی معدوم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کن فیکون کا عمل بھی جاری ہے۔

قید مقام سے گزر: آخری بات جس پر میںنے زور دیا وہ ’’خالص اور ناخالص طرز حیات‘‘ کا مسئلہ تھا۔ یعنی زندگی بسر کرنے کا کونسا طریقہ ’’خالص‘‘ ہے‘ جسے اپنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو حقیقی معنوں میں آپ کی خوشی و اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔ خدا نے روح انسان میں پھونک رکھی ہے۔ اس لیے ہر انسان کے اندر اتنی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں کہ اگر وہ ان میں سے کسی ایک کو بھی پا لے تو اس کی دنیا بدل سکتی ہے۔ لہٰذا ’’انسان خالص‘‘ وہی ہے جو اپنے جوہر کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ وہ صفات جنھیں اپنا لینے سے امکان ہے کہ ہم اپنے آپ کو ڈھونڈ سکیں‘ دراصل عشق‘ آزادی ‘ جرأت‘ بلندی مقاصد کی تحصیل کے لیے جستجو اور فقر ہیں۔

انہی صفات کی بدولت انسان کی اپنی ذات کی گرہ کھلتی ہے اور وہ تخلیقی‘ اختراعی اور ایجادی کار ہائے نمایاں انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مگر ’’شر‘‘ کی جو قوت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ’’جمود‘‘ ہے۔ جمود ہی کے سبب نام نہاد خوبیاں مثلاً خاکساری ‘ عجز و انکساری‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ خوف‘ بزدلی‘ بدعنوانی‘ بھکاری کی طرح سوال کرنا اور نقالی پیدا ہوتی ہیں جو بالآخر انسان کی مستقل غلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کا فرمان ہے: تمہارا سب سے اچھا دوست تمہارا دشمن ہے جو تمہیں ہمیشہ چوکس اور بیداری کی کیفیت میں رکھتا ہے کیونکہ اگر تمہاری زندگی سے مقابلے یا دوسرے سے سبقت لے جانے کا عنصر نکال دیا جائے تو انجام بے حسی یا موت ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے مطابق ظاہر ہے زندگی گزارنے کا ’’خالص‘‘ طریقہ یہی ہے کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح خاک پر رینگتے رہنے کے بجائے انسان اپنے وجود کے سرچشمے سے کچھ بلند کر کے دکھائے۔

اے روح اقبال! جس طرح آپ اپنے آپ کو قائداعظم کا سپاہی سمجھتے تھے اسی طرح قائداعظم نے آپ کو اپنا ’’ دوست‘‘ اور ’’رہبر‘‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان سے متعلق جس طرح قائداعظم کے بارہ بنیادی اصول میں نے ان کی تقاریر اور بیانات سے اخذ کیے ہیں اسی طرح آپ کو برصغیر میں اسلامی ریاست کے قیام کا خیال جس وجہ سے آیا‘ یا آپ کے دل میں اس خیال کی پرورش جیسے ہوئی‘ آپ کی تحریروں کی روشنی میں اس کی تفصیل بیان کی جا سکتی ہے۔

اس بات پر تو غالباً سب متفق ہیں کہ نظریہ پاکستان کا مطلب برصغیر میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک ایسی وفاقی ریاست وجود میں لانا تھا جو جمہوری‘ اسلامی اور فلاحی ہونے کے ساتھ ’’جدید‘‘ بھی ہو۔ مگر اے روح اقبال! برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی اور تمدنی زندگی میں ’’قدیم‘‘ انداز فکر کب ختم ہوتا ہے اور ’’جدید‘‘ کب شروع ہوتا ہے؟ کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہماری اجتماعی سوچ میں جدیدیت کی ابتداء دراصل سر سید احمد خان کے افکار سے ہوتی ہے‘ اگرچہ شاہ ولی اللہ کے بعض نظریات اس ضرورت کی جانب اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں؟ سرسید کے علاوہ کیا حالی ‘ شبلی‘ آپ اور قائداعظم کے نظریات کو اسی طرح جدیدیین میں شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے سید جمال الدین افغانی اور ان کے ترکی‘ مصری یا ایرانی ہمعصر مفکرین کو کیا جاتا ہے؟

نظریہ سے انحراف:قائداعظم کے نزدیک پارلیمانی وفاقی جمہوری طرز حکومت کا قیام‘ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ‘ شہریوں میں عدم امتیاز کی بنیاد پر مساوات‘ معاشی انصاف کی فراہمی اور قانون کی حاکمیت اسلام ہی کے اصول تھے مگر ان کی آنکھیںبند ہونے کے ساتھ ان نظریات سے انحراف کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ 1949میں ’’قرار داد مقاصد‘‘ کے ذریعے ان اصولوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان کا دستور بنانے میں کئی برس لگ گئے۔ خدا خدا کر کے جب دستور بنا بھی تو تھوڑے عرصے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا۔

سیاستدانوں پر بیورو کریسی غالب آئی اور بیورو کریسی پر دوسری بالا دست قوتیں‘ ملک میں مارشل لا ء لگا دیا گیا۔ پھر مارشل لاؤں کے دور شروع ہوئے جن کا تسلسل بھٹو کی جمہوری حکومت سے ٹوٹا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان دو لخت ہوگیا۔ اس کا ذمے دار کون تھا؟ بھٹو یا مجیب الرحمن یا جنرل یحییٰ خان یا اندرا گاندھی؟ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس سانحہ کی ذمے دار دراصل ہم میں راوداری کی عدم موجودگی تھی۔ ہم ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کے نعرے تو بلند کرتے رہے لیکن جمہوری کلچر پیدا نہ کر سکے۔

نتیجہ یہ کہ جس جمہوریت کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا تھا‘ اسی جمہوریت نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ بھٹو جاتے جاتے ہمیں اسلام کے نام پر چند مزید ایسے تحفے ’’عطا‘‘ کر گئے جن سے قائداعظم کی ’’جدید لبرل اسلامی فلاحی جمہوریت‘‘ کے تصور کو نقصان پہنچا۔ رجعت پسند مذہبی عناصر‘ جن کے ’’جن‘‘ کو قائداعظم کی بلند قامت شخصیت نے بوتل میں بند کر رکھا تھا‘ رہائی اور زبان مل گئی اور بچے کچھے پاکستان میں علاقہ پرستی‘ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصبات نے فروغ پانا شروع کر دیا۔ بات یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنی نام نہاد نظریاتی اسلام کی اصطلاحیں مثلاً ’’جدید‘‘ ’’لبرل‘‘ ’’اسلامی‘‘ ’’فلاحی‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کی صحیح طور پر تشریح نہیں کر پائے۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم ’’جویو‘‘ ہیں گر درحقیقت ہم عاشق ’’قویم‘‘ ہی کے ہیں۔

اسی طرح بظاہر ہم ’’لبرل‘‘ بھی بنتے ہیں‘ لیکن اندر سے ہمارے دل قدامت پسندی ‘ تقلید اور فرقہ وارانہ تعصب کی دلدل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا محال ہے۔ دراصل ہم نہ تو جدید ہیں‘ نہ لبرل‘ نہ جمہوریت نواز‘ نہ فلاح پسند‘ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ہم صحیح معنوں میں اسلام کے پیروکار بھی نہیں۔ شاید اسی سبب پاکستانی اسلام ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کا باعث نہیں بن سکا۔ ہم ’’ملت مسلمین‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں۔ ہم تو محض فرقوں‘ قومیتوں اور قبیلوں پر مشتمل’’ہجوم مسلمین ‘‘ ہیں۔

 اس سے آگے کچھ بھی لکھنا میرے بس کی بات نہیں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ساتھ ہیں کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی