بابر اعظم پر تنقید مہنگی پڑی؟ محمد یوسف کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سابق قومی کپتان محمد یوسف نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کوچ کی ذمہ داری سے استعفا دینا پڑا اور اس کی ایک بڑی وجہ بابر اعظم سے متعلق ان کی رائے بنی۔ ایک انٹرویو میں محمد یوسف نے بتایا کہ ان کا استعفا ابتدائی طور پر قبول نہیں کیا گیا، تاہم تیسری بار پیش کیے جانے پر منظور کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب بابر اعظم فارم میں نہیں تھے تو انہوں نے بطور کوچ یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹنگ تکنیک میں مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور وہ گزشتہ تین سال سے تسلسل کے ساتھ رنز نہیں بنا پا رہے تھے۔ محمد یوسف کے مطابق انہوں نے تجویز دی کہ بابر کو کچھ عرصے کے لیے آرام دے کر اکیڈمی میں تکنیک پر کام کروایا جائے تاکہ وہ بھرپور انداز میں کم بیک کر سکیں، لیکن اس مؤقف پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر انہوں نے کہا کہ اگر ان کی رائے قبول نہیں کی جا رہی تو وہ استعفا دے دیتے ہیں۔یاد رہے کہ ICC T20 World Cup میں بھارت سے شکست کے بعد بھی محمد یوسف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات ملکی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہیں اور جب تک سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کا خاتمہ نہیں ہوگا، پاکستان ایک مضبوط اور باوقار ٹیم تشکیل نہیں دے سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔