ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا نجی شعبے پر مشتمل بورڈ قائم، 22 رکنی بورڈ میں 6 سرکاری ارکان شامل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
حکومت نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے انتظامی امور میں شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے 22 رکنی نیابورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز تشکیل دیدیاہے، جس میں اکثریت نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر عمرسعید کوبورڈ کا نیا چیئرمین مقررکیاگیا ہے۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے پاس تھا ،جبکہ سیکریٹری تجارت بورڈکے وائس چیئرمین تھے، حالیہ قانونی ترامیم کے بعددونوں عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔
حکومت نے گزشتہ ماہ ای ڈی ایف ایکٹ میں وزیراعظم کی جانب سے قائم پینل کی سفارشات کی روشنی میں ترامیم کی تھیں،جن کامقصد فنڈکے استعمال کی نگرانی سخت کرنا اور بیوروکریسی کاکردارمحدودکرنا ہے۔
ای ڈی ایف میں تقریباً 52 ارب روپے کی رقم موجودہے،جو برآمدکنندگان پر عائد 0.
ایکسپورٹ ڈیولیپمنٹ فنڈ سے چاول کے برآمدکنندگان کی معاونت کا فیصلہ
ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے تحت برآمدی اشیا پر عائد کسٹمز ڈیوٹی ختم
گزشتہ ماہ بورڈ نے چاول برآمدکنندگان کوعالمی مسابقت اور برآمدی حجم میں کمی کے پیش نظر 15 ارب روپے کی منظوری دی تھی اور جون تک 3 سے 9 فیصد ریبیٹ دینے کافیصلہ کیاتھا،تاہم اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔
نئے بورڈ میں 22 ارکان میں سے صرف 6 سرکاری افسران شامل ہیں،نجی شعبے کے ارکان میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور صنعتی نمائندے شامل کیے گئے ہیں،جبکہ پاکستان بزنس کونسل،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،رائس ایکسپورٹرز ، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز،میٹ ایکسپورٹرز اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزکے نمائندگان بھی بورڈکاحصہ ہونگے۔
قانونی ترامیم کے تحت گزشتہ تین برسوں کی بنیاد پر چار بڑے برآمدکنندگان، بڑا نان ٹیکسٹائل برآمد کنندہ اور زراعت، آئی ٹی اور صنعت کے شعبوں سے ایک، ایک رکن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔