Jasarat News:
2026-06-02@20:39:15 GMT

پاکستانی ہاکی کا بحران

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک وقت تھا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کا شمار دنیا کی نمایاں ترین ٹیموں میں ہوتا تھا اور پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی سمیت ہر سطح کے عالمی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تھی مگر اب دیگر بہت سے کھیلوں کی طرح ہاکی کا کھیل بھی پاکستان میں شدید زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہاکی ٹیم کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران چار میچوں کی سیریز میں ٹیم چاروں میچوں میں شکست سے دو چار ہوئی تاہم جب شائقین کی جانب سے اس بدترین کارکردگی پر اعتراضات سامنے آئے تو ٹیم کے کپتان اور کھلاڑی پھٹ پڑے اور ان کی طرف سے یہ حقائق قوم کے علم میں لائے گئے کہ ٹیم کو دورہ کے دوران انتہائی بد انتظامی اور بدسلوکی سے واسطہ پیش آیا۔ کھلاڑیوں کے لیے آسٹریلیا میں قیام و طعام تک کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا انہیں کسی معقول ہوٹل کے بجائے غیر معیاری جگہ پر ٹھیرایا گیا جہاں کھلاڑیوں کو اپنی رہائش گاہ، کچن اور ٹائلٹ وغیرہ کی صفائی تک خود کرنا پڑتی تھی جس کے اثرات کھلاڑیوں اور ان کی کارکردگی پر پڑنا فطری امر تھا جس کی ذمے داری براہ راست پاکستان ہاکی فیڈریشن پر عائد کی گئی تاہم فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے گزشتہ روز قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر ملکی اور بیرون ملک ہاکی مقابلوں میں حصہ لینے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی جس کے بعد لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر طارق حسین بگٹی نے خود بھی ہاکی فیڈریشن سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ میں نے اپنا استعفا وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو بھجوا دیا ہے۔ آسٹریلیا میں قومی ہاکی ٹیم کے دورہ کے دوران بدانتظامی اور کھلاڑیوں سے روا رکھی جانے والی بدسلوکی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست ہے کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو معاملے کی تحقیقات کرے اور پرولیگ میں بے ضابطگیوں کے ذمے داروں کا تعین کرے جنہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ صدر ہاکی فیڈریشن نے دورہ آسٹریلیا کے دوران قومی ہاکی ٹیم کی پیش آمدہ مسائل کی ذمے داری پاکستان اسپورٹس بورڈ پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بورڈ نے آسٹریلیا میں ہوٹل کی بکنگ کے لیے بروقت رقم ادا نہیں کی حالانکہ وزیر اعظم نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے تھے۔ میں ذاتی طور پر اسپورٹس بورڈ کے دفترگیا اور درخواست کی کہ ہمارے پیسے ہمیں ادا کر دیے جائیں مگر اسپورٹس بورڈ کے ذمے داران کا کہنا تھا کہ پیسے ملنے میں دو ماہ لگیں گے۔ ہاکی فیڈریشن کے بحران کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیڈریشن کے سیکرٹری نے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سربراہ نے اپنی پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا ہے اور اسپورٹس بورڈ پر جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے موقف کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی یہ سوال جواب طلب رہ جاتا ہے کہ ان کی جانب سے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کرنے کا جواز کیا ہے، میر طارق حسین بگٹی نے اس کی کوئی وجہ اپنی پریس کانفرنس میں بھی نہیں بتائی کیا ہاکی ٹیم کے کپتان اور دیگر کھلاڑیوں کا اس کے علاوہ بھی کوئی جرم ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور ہاکی فیڈریشن کے عہدیداروں کی نا اہلی اور بد انتظامی سے متعلق قوم کو آگاہ کیا ہے۔ شاید فیڈریشن کے سربراہ توقع رکھتے تھے کہ کھلاڑی خاموشی سے تمام ظلم اور زیادتی برداشت کرلیتے اور اس سے متعلق حقائق پاکستانی عوام کے سامنے نہ لاتے۔ جہاں تک ان کے پاکستان اسپورٹس بورڈ پر دورے کے انتظامات کے لیے بروقت رقم فراہم نہ کیے جانے کے الزامات کا تعلق ہے تو سوال یہ ہے کہ اس میں کھلاڑیوں کا کیا قصور ہے انہیں کس جرم کی سزا دی گئی اور اب مزید پابندیاں عائد کر کے دی جا رہی ہے؟ پھر سوال یہ بھی ہے کہ اگر اسپورٹس بورڈ نے فنڈز بروقت فراہم کرنے میں کوتاہی کی یا رکاوٹیں ڈالیں تو آخر فیڈریشن نے اس سے متعلق فوری طور پر وزیر اعظم سے رابطہ کر کے اس کوتاہی کے ازالہ کی کوشش کیوں نہیں کی؟ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مستعفی ہونے والے سربراہ میر طارق حسین بگٹی نے اپنی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی یہ درخواست کی ہے کہ معاملات کی خرابی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے اور ذمے داران کا تعین کر کے انہیں سزا دی جائے یہ استدعا اصولی طور پر درست ہے تاہم یہاں بھی سوال یہ ہے کہ انہوں نے فیلڈ مارشل کو اس معاملہ میں درخواست کی ضرورت کیوں محسوس کی ہے؟ وہ انہیں اس معاملہ میں ملوث کر کے آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟؟ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا استعفا فوری طور پر منظور کرتے ہوئے ان کی جگہ محی الدین وانی کو فیڈریشن کا ایڈہاک صدر تعینات کر دیا ہے جب کہ ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے سابق چیئرمین کی طرف سے ان پر عائد کی گئی دو سال کی پابندی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ مجھ پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ ادھر پاکستان اسپورٹس بورڈ کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے ہاکی ٹیم کے دورۂ آسٹریلیا سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل کر کے وزیر اعظم کے دفتر کو ارسال کر دی ہے جس میں معاملہ کی تمام تر ذمے داری ہاکی فیڈریشن پر عائد کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے رہائشی انتظامات میں مبینہ بد انتظامی کے لیے فیڈریشن کو قصور وار قرار دیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے جو نکات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ہاکی ٹیم کو دو فروری کو لاہور سے روانہ ہونا تھا اور چار فروری کو ہوبارٹ پہنچنا تھا مگر ہاکی فیڈریشن کی طرف سے ویزہ درخواستوں میں تاخیر اور دیگر کوتاہیوں کے سبب شیڈول پرواز منسوخ ہو گئی اور نئے ٹکٹ خریدنا پڑے جن پر دو کروڑ 71 لاکھ روپے کا اضافی خرچ اسپورٹس بورڈ نے برداشت کیا اسی طرح ویزہ کے اخراجات کی مد میں بھی بورڈ کو 97 لاکھ روپے کے اضافی واجبات ادا کرنا پڑے جب کہ کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے بورڈ نے فیڈریشن کو 49 ہزار 1280 آسٹریلوی ڈالر کی رقم پیشگی ادا کی اور آسٹریلیا میں بارہ ڈبل اور دو سنگل کمروں کی بکنگ کے لیے رقم مہیا کی گئی مگر ٹیم نے ڈبل ٹری ہلٹن ہوٹل میں قیام نہیں کیا حالانکہ اس کی ادائیگی پیشگی کی جا چکی تھی ٹیم چار کے بجائے سات فروری کو ہوبارٹ پہنچی اور چھے سے چودہ فروری تک ٹیم متبادل رہائش گاہ میں ٹھیری۔ اس طرح ٹیم کی بروقت روانگی میں تاخیر اور آسٹریلیا میں نامناسب جگہ پر رہائش پذیر ہونے سے کھلاڑیوں کے حوصلے پست ہوئے اور ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے آسٹریلیا کے دورے سے واپسی پر کھلاڑیوں کو پیش آمدہ انہی خراب حالات کی نشاندہی کی تھی اور قوم کو ان حقائق سے آگاہ کیا تھا کہ کھلاڑی دورہ میں خود کھانا پکاتے، کپڑے دھوتے، واش رومز اور کچن وغیرہ کی صفائی کرتے رہے ہوٹل میں رہائش کے انتظار میں سولہ گھنٹے تک سڑکوں پر خوار ہوتے رہے جب کہ کھلاڑیوں کی بہت سے ادائیگیاں بھی فیڈریشن کی طرف واجب الادا تھیں۔ کپتان نے واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ ہاکی انتظامیہ کے ساتھ مزید چلنا ممکن نہیں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نے کھلاڑیوں کی طرف سے عائد کیے گئے اکثر الزامات اور ہاکی فیڈریشن کی نا اہلی اور مبینہ بد انتظامی کی تصدیق کر دی ہے وزیر اعظم کو قومی ہاکی کو درپیش ان بدترین حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر صورتحال کی اصلاح کے لیے فوری طور پر ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئیں تاکہ ہاکی کے میدان میں پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن پاکستان اسپورٹس بورڈ ہاکی ٹیم کے کپتان ہاکی فیڈریشن کے قومی ہاکی ٹیم ا سٹریلیا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی طرف سے کے دوران بگٹی نے عائد کی کر دیا دیا ہے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی