data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کی تراویح میں چوتھے پارے کے ثلث سے پانچویں پارے کے اختتام تک تلاوت کی گئی، جو سورہ النساء پر مشتمل ہے۔ سورہ النساء مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں نوزائیدہ اسلامی معاشرے کے لیے احکامات بیان کیے گئے ہیں جو سورہ البقرہ کا تسلسل ہے۔ اس سورت میں وراثت، حقوقِ یتامیٰ، تعدد ازواج، منافقین کا طرز عمل اور ان کے مقابلے کے لیے حکمت عملی، غیرجانبدار قبائل سے تعلقات، اسلامی اخلاق و آداب، تیمم، معاشرتی، معاشی، تعزیری اور فوجداری قوانین، صلاۃ القصر اور صلاۃ الخوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
سورت کے پہلے رکوع میں انسانوں کو بتایا گیا کہ تم ایک مرد و عورت سے پیدا کیے گئے ہو، تمہیں مختلف قبیلوں میں تقسیم کرنے کا مقصد صرف آپسی تعارف میں آسانی ہے نہ کہ فخر و تکبر۔ خالق کے ہاں صرف وہی شخص بہترین ہے جو اس سے ڈرنے والا ہو۔ زیر کفالت یتیموں کے مالکی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ تعدد ازواج کی چار تک مشروط اجازت دی کہ اگر ان کے مابین عدل و انصاف کر سکتے ہو تو کرلو۔ ترکے (میراث) کی تقسیم میں علی الترتیب میت کی تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائی، ایک تہائی وصیت کا نفاذ اور آخر میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ورثاء کے مابین مال کی تقسیم ہے۔
دوسرے رکوع میں وراثت کے مسائل اور افراد کے حصے بیان ہوئے ہیں۔ تیسرے رکوع میں عورتوں کی جانب سے بدکاری کی سزا، ان کی توبہ اور ان کے ساتھ شوہر کو بہترین طرز عمل اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چوتھے اور پانچویں رکوع میں محرمات کے تفصیلی ذکر کے بعد نکاح کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے رکوع میں مرد کی قوامیت بیان کی گئی ہے کہ معاشی ذمے داریاں مرد پر اور گھریلو معاملات کی ذمے داریاں عورت پر ڈالی گئی ہیں۔ ساتویں رکوع میں تیمم کی مشروعیت اور اس کے مسائل بیان ہوئے۔ اللہ، رسول اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے ذمے داران کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔ یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے غیر مشروط ہوگی جبکہ اولی الامر کی اطاعت کے لیے ان دونوں ہستیوں کی اطاعت مشروط رکھی ہے کہ خالق کی معصیت میں اولی الامر کی اطاعت نہ کی جائے۔ آٹھویں رکوع میں طاغوت کا ذکرہے، طاغوت وہ فرد، قوت و منصب جو اللہ کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دے اور اس پر ڈٹ جائے۔ نویں اور دسویں رکوع میں جہاد کا حکم دیا گیا کہ بالآخر تم کیوں بے بس و لاچار مرد و خواتین کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے۔ گیارھویں رکوع میں وہ مسلمان جو دارالاسلام قائم ہونے کے بعد ابھی تک دارالکفر میں قیام پذیر تھے، انہیں وہاں سے ہجرت کی تلقین کی گئی۔ تیرھویں اور چودھویں رکوع میں ایک مسلمان کا قتل اور قتل ِ خطا کا ذکر کیا گیا، اور اس کی سزا دیّت، غلام کی آزادی اور کفارے کے روزے بتائی گئی، قتل خطا اتفاقی طور پر قتل کو کہتے ہیں۔ جبکہ جان بوجھ کر کسی کی جان لینے والے کو دائمی جہنم کا مستحق بتایا گیا ہے۔ اسی رکوع میں پھر سے دارالاسلام ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پندھویں رکوع میں صلاۃ الخوف اور حالت سفر میں صلاۃ القصر کے احکامات بیان ہوئے ہیں۔ صلاۃ الخوف یعنی حالت ِ جنگ میں نماز میں کافی رعایتیں دیں گئیں ہیں، جیسے کہ جہاں رْخ ہو، سواری پر ہی، اگرچہ کپڑوں پر خون لگا ہوا ہو اور حالت نماز میں چلنا وغیرہ۔ صلاۃ القصر یعنی سفر کی حالت میں نماز میں تخفیف کی گئی کہ صرف فرائض ادا کرلو اور وبھی آدھے، سوائے فجر و مغرب کے۔ سترہویں رکوع میں توحید باری تعالیٰ کا بیان ہے اور اللہ کا اعلان کا تذکرہ ملتا ہے کہ ’’اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا‘‘۔ انیسویں رکوع میں خواتین کے ساتھ معاملات اور عدل کا حکم دیا گیا ہے، خانگی معاملات کو کچہریوں کے بجائے دونوں خاندانوں کے بڑوں کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بیسویں رکوع سے اختتام ِ پارہ تک منافقین کے احوال بتائے گئے کہ ان منافقین میں سے ہر ایک کا طریقۂ واردات مختلف ہے اس لیے اب ان سے ان ہی کے طرز واردات کے مطابق حکمت عملی طے کرو۔ پانچویں پارے کے آخر میں اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ایسی مجلسوں میں بیٹھنا، جہاں اللہ کی آیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہو، اہل ِ ایمان کے شایانِ شان نہیں۔ ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔ آج کے دور میں ان آیات کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے جہاں شیطان ہر طرف ننگا ناچ ناچ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا حکم دیا گیا کے مسائل کی اطاعت رکوع میں کے لیے کی گئی گئی ہے اور اس
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔