موٹروے پولیس کی کارروائی، کروڑوں روپے مالیت کی ادویات سے بھرا چھینا گیا مزدا برآمد
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
موٹروے پولیس ساؤتھ زون، سیکٹر سکرنڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نواب شاہ لنک روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کی ادویات سے بھرا چھینا گیا مزدا برآمد کر لیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق گاڑی میں ایبٹ کمپنی کی ادویات رکھی ہوئی تھیں جو کراچی سے سکھر لے جائی جا رہی تھیں۔ نامعلوم ملزمان نے گاڑی چھیننے کی واردات کی تھی۔
ڈرائیور نے فوری طور پر موٹروے پولیس کی 130 ہیلپ لائن پر اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے جدید ٹریکنگ کے ذریعے گاڑی کی لوکیشن حاصل کی۔
مزید پڑھیںکراچی میں مزدا کی ٹکر سے بچی جاں بحق
موٹروے پولیس کی کارکردگی کے نتیجے میں گاڑی قاضی احمد کے قریب سے بازیاب ہوئی اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقامی پولیس کے حوالے کر دی گئی۔
ڈی آئی جی سید فرید علی نے افسران کی کارکردگی کو سراہا اور بروقت کارروائی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔