امریکی عدالت عظمیٰ:ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-01-21
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی عدالت عظمیٰ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال نافذ کیے گئے عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ ٹیرف قانونی طور پر درست نہیں تھے اور انھیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔یہ فیصلہ جمعہ کی شام 8بج کر5 منٹ پر سنایا گیا۔ عدالت کے حکم کے بعد امریکی حکومت کی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔امریکا کی عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف نافذ کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی تھی ۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت لگائے جو صرف قومی ہنگامی صورتحال کے لیے مخصوص ہے۔امریکاکی عدالت عظمیٰ نے ٹرمپ کے نافذ کردہ عالمی ٹیرف کو 6-3 کے تناسب سے کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلے میں تین لبرل ججز، کیتنجی براؤن جیکسن، ایلینا کیگن اور سونیا سوتومئیر، نے تین قدامت پسند ججز، ایمی کونی بیریٹ، نیل گورسچ اور چیف جسٹس جان رابرٹس، کے ساتھ مل کر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔دوسری جانب جسٹس بریٹ کاوانا، سیموئل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔عدالت نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔امریکی عدالت نے واضح کیا کہ ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس ہے جسے صدر ٹرمپ تن تنہا استعمال نہیں کرسکتے۔اس فیصلے کے حق میں 6 ججز جب کہ 3 نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اکثریتی فیصلے سے عدم اتفاق کیا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہو گئے ہیں۔یہ فیصلہ امریکی تجارتی پالیسی پر بڑے اثرات مرتب کرے گا اور ماہرین کے مطابق مستقبل میں صدر کے اختیارات کی حدود مزید واضح ہو جائیں گی۔علاوہ ازیںامریکی عدالت عظمیٰ کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا۔امریکی عدالت کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیگر قائم نہیں رہے گی۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن اور شرمناک ہے ،مجھے عدالت کے چند مخصوص ججوں پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگرممالک عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیگر قائم نہیں رہے گی ، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔امریکی صدر نے کہا کہ عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے ، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل رقم واپس کرنا ہوگی؟ جس پر جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹیرف سے حاصل رقم واپسی پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس اپریل میں دنیا کے تقریباً ہر ملک سے آنے والی اشیاء پر ٹیرف نافذ کیے۔ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ٹیرف سے حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا، امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری بڑھے گی اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ٹرمپ کا مقصد امریکاکے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے یعنی وہ فرق جو امریکا کی درآمدات اور برآمدات کی قدر کے درمیان موجود ہے۔ صدر کا مؤقف ہے کہ امریکا کودھوکا بازوں نے استحصال کا نشانہ بنایا ہے اورغیروں نے لوٹ کھسوٹ کی ہے۔ٹرمپ نے ان ٹیکسز کو دیگر مطالبات منوانے کے لیے بھی استعمال کیا۔ مثال کے طور پر جب انھوں نے چین، میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف ٹیرف کا اعلان کیا تو کہا کہ ان ممالک کو امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی آمد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔کئی ٹیرف اعلان کے بعد یا تو تبدیل کر دیے گئے یا مؤخر کر دیے گئے۔امریکا میں ٹیرف مخالف تنظیم ’وی پے دی ٹیرفس‘ نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری اداروں کو ادا کیے گئے ٹیرف کی مکمل، فوری اور خودکار واپسی کی جائے۔تنظیم کے ڈائریکٹر ڈین انتھونی نے کہا کہ آج کا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ امریکا کے چھوٹے کاروباریوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو ان ٹیرف کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کاروباریوں کو حقیقی ریلیف نہ ملا تو یہ فیصلہ بے معنی ہوگا۔ڈین انتھونی کے مطابق حکومت کا واحد ذمہ دارانہ راستہ یہ ہے کہ ایک تیز، مؤثر اور خودکار نظام قائم کیا جائے، جس کے ذریعے ٹیرف کی رقم ان کاروباروں کو واپس کی جائے جنھوں نے یہ ادائیگیاں کی ہیں۔’وی پے دی ٹیرفس‘ کے پلیٹ فارم کے تحت 800 سے زائد کاروبار شامل ہیں۔ اس تنظیم نے عدالت عظمیٰ میں ٹیرف کیسز کے دوران ایک امیکَس بریف بھی جمع کرایا تھا۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے پہلے ہی امریکا کی کئی بڑی کمپنیوں نے ادا کیے گئے ٹیرف کی واپسی کے لیے مقدمات دائر کر دیے تھے۔نومبر میں ملٹی نیشنل ریٹیل کمپنی کاسٹکو نے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہوتے ہوئے ریفنڈ کا مطالبہ کیا۔ دو نچلی عدالتیں پہلے ہی قرار دے چکی تھیں کہ صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹیرف نافذ کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔کاسٹکو نے مقدمے میں کہا کہ اس کے کاروبار کو ٹیرف کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے اور خدشہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود اسے رقم واپس نہیں ملے گی۔ دیگر کمپنیوں میں گوڈیئر ٹائرز، چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی اور کیمرہ بنانے والی کمپنی گو پرو بھی شامل ہیں جنھوں نے ریفنڈ کے لیے مقدمات کیے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ریپبلکن پارٹی میں بھی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے حوالے سے یکساں حمایت نہیں رہی۔ کئی ارکان کو اپنے حلقوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عدالت عظمی امریکی عدالت عالمی ٹیرف کی جانب سے ٹیرف نافذ امریکا کی نے کہا کہ کے مطابق فیصلے کے کے فیصلے اس فیصلے کہا کہ ا کہ ٹیرف ٹرمپ کا ٹیرف سے کیے گئے ٹیرف کی کے لیے کے بعد
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز