پاکستان تحریکِ انصاف میں جاری اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سے متعلق متنازع بیانات نے بھی ان اختلافات کو طول دی ہے، حالیہ بیانات سے پارٹی قیادت واضح طور پر 2 حصوں میں تقسیم نظر آ رہی ہے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور سینیٹر مشال یوسفزئی کے علیمہ خان مخالف بیان دینے پر پارٹی نے دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان ڈیل کا کیا بنا؟ کیا رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہیں؟

پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے بعد علی امین گنڈاپور کے تمام انٹرویوز، تقاریر اور ویڈیوز منگوائیں۔ ان بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ بعض بیانات پارٹی نظم و ضبط اور بانیٔ پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے احترام کے منافی ہیں۔

چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ سے متعلق کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ یا توہین آمیز بیان کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی ڈسپلن سب پر لاگو ہوتا ہے، چاہے عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، انہوں نے متعدد بار کہا ہے کہ ہم عمران خان کی بہنوں کو سلام اور عقیدت پیش کرتے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں شروع دن سے ہمارے ساتھ ہیں۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان سے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں، بہت کچھ کہا ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ ان تمام باتوں کا جواب دیا جائے گا، کوئی قرض باقی نہیں رکھا جائے گا، ایک دن علی امین گنڈاپور کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ عمران خان کی بہنیں ان کے لیے خلوص کا حصار ہیں، جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟

سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کی خبر بے بنیاد تھی۔ ان کے مطابق سینیٹر مشال یوسفزئی کا بیان لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے اور جو جھوٹ بولتا ہے، اسے اس کا حساب دینا ہوگا، جلد مشال یوسفزئی سے باضابطہ بازپرس کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو دو بار ڈیل کی پیشکش؟ رانا ثناء اللہ کا بڑا دعویٰ، علی امین اور علیمہ خان آمنے سامنے

سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں کہا کک انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی تھی کہ باہمی اختلافات ختم کیے جائیں تاکہ بانی کی رہائی ممکن ہو سکے، عمران خان کو میرے بارے میں گمراہ کیا گیا۔ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے نہ دیتا، عمران خان کی بہنوں کے بارے میں بہت بڑی بات کر چکا ہوں، اگر خان نے میرے خلاف ایکشن نہیں لیا تو سلمان اکرم راجہ کون ہوتا ہے میرے خلاف ایکشن لینے والا؟ پہلے یہ واضح کیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل ہیں یا علیمہ خان کے؟ بانی کی رہائی کے بعد اصل حیثیت کا پتا چل جائے گا کہ کس کی کیا اوقات ہے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی علیمہ خان سے متعلق مصالحتی بیان دیتے نظر آئے ہیں، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے نسبتاً محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ علیمہ آپا بانی کی بہن ہیں، انہیں سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ ایسے معاملات پارٹی کے اندر رہ کر حل ہونے چاہییں۔

علیمہ خان نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو میرے خلاف ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں کہا تھا کہ جا کر انہیں بتاؤ، استعمال کرنے کے بعد ایسے لوگوں کو کرش کر دیا جاتا ہے، مشال یوسفزئی جن ہدایات پر جھوٹ بولتی ہیں، وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کی خیرخواہ ہیں۔

مشال یوسفزئی نے اپنے مؤقف میں علیمہ خان سے منسوب بیانات اور ویڈیوز کو اے آئی جنریٹڈ اور جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان بانیٔ پی ٹی آئی کی بہن ہونے کے ناتے ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے علیمہ خان کو میڈیا سے گفتگو سے منع کر رکھا ہے اور خود اعلان کیا تھا کہ آئندہ صرف نورین نیازی میڈیا سے بات کریں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیرسٹرگوہر پی ٹی آئی تحریک انصاف علی امین گنڈاپور علیمہ خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیرسٹرگوہر پی ٹی ا ئی تحریک انصاف علی امین گنڈاپور علیمہ خان علی امین گنڈاپور سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی مشال یوسفزئی علیمہ خان سے عمران خان کی ہوئے کہا جائے گا کے لیے کہا ہے کے بعد خان کو

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین