علیمہ خان کے معاملے پر پی ٹی آئی تقسیم، کون سا رہنما ان کے حق میں اور کون مخالف؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف میں جاری اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سے متعلق متنازع بیانات نے بھی ان اختلافات کو طول دی ہے، حالیہ بیانات سے پارٹی قیادت واضح طور پر 2 حصوں میں تقسیم نظر آ رہی ہے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور سینیٹر مشال یوسفزئی کے علیمہ خان مخالف بیان دینے پر پارٹی نے دونوں رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان ڈیل کا کیا بنا؟ کیا رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہیں؟
پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے بعد علی امین گنڈاپور کے تمام انٹرویوز، تقاریر اور ویڈیوز منگوائیں۔ ان بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ بعض بیانات پارٹی نظم و ضبط اور بانیٔ پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے احترام کے منافی ہیں۔
چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ سے متعلق کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ یا توہین آمیز بیان کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی ڈسپلن سب پر لاگو ہوتا ہے، چاہے عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، انہوں نے متعدد بار کہا ہے کہ ہم عمران خان کی بہنوں کو سلام اور عقیدت پیش کرتے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں شروع دن سے ہمارے ساتھ ہیں۔
سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان سے متعلق بہت سی باتیں کی ہیں، بہت کچھ کہا ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ ان تمام باتوں کا جواب دیا جائے گا، کوئی قرض باقی نہیں رکھا جائے گا، ایک دن علی امین گنڈاپور کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ عمران خان کی بہنیں ان کے لیے خلوص کا حصار ہیں، جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ بانی پی ٹی آئی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟
سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کی خبر بے بنیاد تھی۔ ان کے مطابق سینیٹر مشال یوسفزئی کا بیان لغو اور جھوٹ پر مبنی ہے اور جو جھوٹ بولتا ہے، اسے اس کا حساب دینا ہوگا، جلد مشال یوسفزئی سے باضابطہ بازپرس کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو دو بار ڈیل کی پیشکش؟ رانا ثناء اللہ کا بڑا دعویٰ، علی امین اور علیمہ خان آمنے سامنے
سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں کہا کک انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی تھی کہ باہمی اختلافات ختم کیے جائیں تاکہ بانی کی رہائی ممکن ہو سکے، عمران خان کو میرے بارے میں گمراہ کیا گیا۔ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے نہ دیتا، عمران خان کی بہنوں کے بارے میں بہت بڑی بات کر چکا ہوں، اگر خان نے میرے خلاف ایکشن نہیں لیا تو سلمان اکرم راجہ کون ہوتا ہے میرے خلاف ایکشن لینے والا؟ پہلے یہ واضح کیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل ہیں یا علیمہ خان کے؟ بانی کی رہائی کے بعد اصل حیثیت کا پتا چل جائے گا کہ کس کی کیا اوقات ہے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی علیمہ خان سے متعلق مصالحتی بیان دیتے نظر آئے ہیں، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے نسبتاً محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ علیمہ آپا بانی کی بہن ہیں، انہیں سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔ ایسے معاملات پارٹی کے اندر رہ کر حل ہونے چاہییں۔
علیمہ خان نے بھی حال ہی میں اپنے ایک بیان میں مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو میرے خلاف ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں کہا تھا کہ جا کر انہیں بتاؤ، استعمال کرنے کے بعد ایسے لوگوں کو کرش کر دیا جاتا ہے، مشال یوسفزئی جن ہدایات پر جھوٹ بولتی ہیں، وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کی خیرخواہ ہیں۔
مشال یوسفزئی نے اپنے مؤقف میں علیمہ خان سے منسوب بیانات اور ویڈیوز کو اے آئی جنریٹڈ اور جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان بانیٔ پی ٹی آئی کی بہن ہونے کے ناتے ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے علیمہ خان کو میڈیا سے گفتگو سے منع کر رکھا ہے اور خود اعلان کیا تھا کہ آئندہ صرف نورین نیازی میڈیا سے بات کریں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیرسٹرگوہر پی ٹی آئی تحریک انصاف علی امین گنڈاپور علیمہ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹرگوہر پی ٹی ا ئی تحریک انصاف علی امین گنڈاپور علیمہ خان علی امین گنڈاپور سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی مشال یوسفزئی علیمہ خان سے عمران خان کی ہوئے کہا جائے گا کے لیے کہا ہے کے بعد خان کو
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔