Jasarat News:
2026-06-02@20:41:18 GMT

موبائل فون رکھنے کا الزام‘بہو کوبرہنہ کرکے بدترین تشدد

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جہلم (مانیٹرنگ ڈیسک ) موبائل فون رکھنے کا الزام لگا کر بہو کو برہنہ کرکے گرم لوہے اور ڈنڈوں سے تشدد کرنے کا انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے۔جہلم میں بہو پر تشدد کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں موبائل فون رکھنے کے الزام میں سرالیوں نے بہو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ سرالیوں نے مجھے برہنہ کر کے گرم لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ شوہر نے پلاس سے کان کھینچے جبکہ ساس، جیٹھ، جیٹھانی اور دیگر افراد نے مل کر تشدد کیا جس سے میں بے ہوش ہو گئی۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او جہلم سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔پولیس کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرلیا گیا ہے، جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ ظالم عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔ متاثرہ خاتون کو مکمل قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں