رمضان کا آغاز اشیائے خوردونوش کی قیمتوں نے عوام کے اوسان خطا کردیئے، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کو یقینی بنایا جائے، سستے بازاروں کا قیام اور بازاروں میں شکایتی مراکز قائم کئے جائیں، ناجائز منافع خور، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء بیچنے والے عوام دشمن ہیں ان کے خلاف بلاتفریق سختی سے نمٹا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نظام مصطفی پارٹی سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ رمضان نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے، عبادت، مخلوق خدا کی خدمت کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا مہینہ ہے، ذخیرہ اندوزی کرکے ناجائز منافع خوری کرنے کا نہیں۔ ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے کہا کہ رمضان سے قبل حکومت اور انتظامیہ کے بیانات آتے رہیں کہ مہنگائی کا نوٹس لیا جارہا ہے؟ ناجائزہ منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات کئے جارہے ہیں؟ عوام کو ریلیف پہنچایا جائے گا؟ لیکن مہنگائی کو کم کرنے کے حکومتی دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہیں جو سرکاری نرخ نامہ جاری کیا گیا اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا، حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے آغاز سے ہی اشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عوام کے اوسان خطا کردیئے، پھل، سبزیاں، گھی، چاول، بیسن، چینی، دالیں، چینی، دالیں، لہسن، پیاز، کھجوریں، گوشت تقریباً ہر چیز ناجائز منافع خوری اور انتظامیہ کی ناکامی کی بدولت عوام کی قوت خرید کو کم کردیا ہے، رمضان میں مہنگائی عام دنوں کے مقابلے میں کئی گناہ بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے مصنوعی مہنگائی کو روکنے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے، روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کو یقینی بنایا جائے، سستے بازاروں کا قیام اور بازاروں میں شکایتی مراکز قائم کئے جائیں، ناجائز منافع خور، ذخیرہ اندوزی اور غیر معیاری اشیاء بیچنے والے عوام دشمن ہیں ان کے خلاف بلاتفریق سختی سے نمٹا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ناجائز منافع حنیف طیب
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔