صاف پانی ناگزیر ہے، الخدمت پورے شہر میں واٹر پلانٹس لگانا چاہتی ہے،نوید علی بیگ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیف ایگز یکٹو الخدمت کراچی نوید علی بیگ نے کہا ہے کہ اس وقت کراچی شہر میں الخدمت کے 75 واٹر فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں ۔ شہر میں پانی کا بحران ہے اور آلودہ پانی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے ،الخدمت سال ہا سال سے صاف پانی کے منصوبے پر کام کر رہی ہے ۔الخدمت شہریوں کواپنے ’’واش پروگرام ‘‘کے تحت قائم واٹر فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے صاف اورمعیاری پینے کا پانی فراہم کرر ہی ہے ۔الخدمت پورے شہر میں صاف پانی کے پلانٹس لگانا چاہتی ہے تاکہ پورا شہر اس سہولت سے مستفید ہو۔اپنے ایک بیان میں نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت کے واٹرفلٹریشن پلانٹس سے یومیہ ہزاروں افراد استفادہ کر رہے ہیں ۔الخدمت کی جانب سے اسپتالوں کے باہر اور دسترخوانوں اور پبلک مقامات پرواٹر وینز اپنی ذمے داریاں انجام دیتی ہیںاور روزے داروں ،مریضوں اور ان کے لواحقین کو پینے کا ٹھنڈا پانی فراہم کرتی ہیں اور یہ واٹر وینز پورا سال فعال رہتی ہیں ۔الخدمت نے اعزازی طور پر 6 تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کیے ہیں ،جہاں سے طلبہ اور عام افراد استفادہ کرتے ہیں ۔کراچی میں 3 واٹر ڈسپنسنگ مشینیں 24 گھنٹے لوگوں کو اپنی سروس فراہم کرتی ہیںاور لوگ اپنی سہولت کے مطابق کارڈ کے ذریعے کسی بھی وقت پانی حاصل کر سکتے ہیں ۔نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت کے پاس اپنی واٹر ٹیسٹنگ لیب بھی ہے جہاں باقاعدگی سے پانی کا ٹیسٹ کیا جا تا ہے جبکہ بیرونی ٹیسٹ بھی ارزاں نرخوں پر کیے جاتے ہیں ،ہم کمیونٹی کے لیے سمر سمپل پمپ ،سولر سمر سمبل پمپ اور ہینڈ پمپس بھی لگاتے ہیں جس میں بلدیہ، کورنگی سمیت وہ تنگ گلیوں والے علاقے شامل ہیں جہاں پر واٹر ٹینکر داخل نہیں ہو سکتے اور ان گلیوں میں بجلی کے مسائل ہوتے ہیں ۔نوید علی بیگ نے کہا کہ کراچی میں ہمیشہ پانی کا بحران رہتا ہے ،اسی لیے مسائل کاشکار لوگوں کی ضرورت کو مد نظررکھتے ہوئے الخدمت بورنگ کے ذریعے پانی کی فراہمی کا انتظام کرتی ہے ،نوید علی بیگ نے کہا کہ پانی ایک بہترین صدقہ ہے اور اس کو اللہ کی مخلوق کے لیے جاری وساری رکھنا بھی صدقہ جاریہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مخیرحضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کام کو وسعت دینے کے لیے ماہ مقدس میں الخدمت کا ساتھ دیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔