دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کا خدشہ، مائیکل وان کا ای سی بی سے فوری اقدام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ دی ہنڈرڈ میں بھارتی ملکیت والی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر منتخب نہیں کریں گی جس پر انہوں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگلے ماہ لندن میں 11 اور 12 مارچ کو ہونے والی دی ہنڈرڈ کی پلیئر نیلامی کے دوران 4 بھارت سے وابستہ ٹیمیں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز مبینہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں سے گریز کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے: دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت خطرے میں، آئی پی ایل روابط آڑے آگئے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 سے زائد پاکستانی کرکٹرز نے نیلامی کے لیے اپنی دستیابی ظاہر کی ہے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار کھلاڑی 18 ممالک سے رجسٹرڈ ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کی ٹیمیں عموماً صرف عالمی مقابلوں میں آمنے سامنے آتی ہیں۔ اسی تناظر میں انڈین پریمیئر لیگ میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت عملاً بند ہے۔ اب جب کہ آئی پی ایل مالکان مختلف ممالک کی لیگز میں ٹیموں کے مالک بن چکے ہیں، پاکستانی کرکٹرز کے مواقع مزید محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آئیڈیل بلے باز کون، کس کو دیکھ کر کرکٹ شروع کی، صاحبزادہ فرحان نے راز بتادیا
مائیکل وان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ‘ای سی بی کو اس معاملے پر فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ لیگ ان کی ملکیت ہے اور ایسا ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ملک کا سب سے جامع کھیل وہ نہیں ہو سکتا جو اس طرح کے امتیاز کی اجازت دے۔’
ای سی بی کے ترجمان نے کہا کہ دی ہنڈرڈ دنیا بھر سے مرد و خواتین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور توقع ہے کہ 8وں ٹیمیں اس تنوع کی عکاسی کریں گی۔ گزشتہ سیزن میں صرف محمد عامر اور عماد وسیم اس لیگ میں شریک ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای سی بی دی ہنڈرڈ کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ای سی بی کرکٹ پاکستانی کھلاڑیوں
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔