اسرائیل نے فلسطینیوں کا مسجد اقصٰی میں داخلہ محدود کردیا،صرف بچوں اور بوڑھوں کو داخلے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ بیت المقدس میں ماہ رمضان کے پہلے جمعے کے موقع پر اسرائیل نے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ کے احاطے تک رسائی سختی سے محدود کر دی۔ عرب میڈیا کے مطابق رام اللہ کے قریب قلندیہ چیک پوائنٹ پر سیکڑوں فلسطینی طویل قطاروں میں کھڑے رہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے سے خصوصی اجازت نامے کے ساتھ صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی گئی تاہم یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف 12 سال سے کم عمر بچے، 55 سال سے زاید عمر کے مرد اور 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین ہی داخلے کی اہل ہیں۔اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق صبح تک تقریباً 2 ہزار فلسطینی ہی قلندیہ چیک پوائنٹ سے بیت المقدس کی جانب گزرنے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو علیحدہ کرنے والے چیک پوائنٹس پر اسرائیلی فوج کا ہائی الرٹ برقرار رہا۔صحافیوں کے عالمی ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کو اسرائیلی حراست کے دوران مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں 59 فلسطینی صحافیوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں، جن میں اکثریت نے دورانِ حراست جسمانی تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کی شکایات درج کرائیں۔ سی پی جے کے مطابق 17 صحافیوں نے جنسی تشدد کا بھی الزام عائد کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد 94 فلسطینی صحافیوں اور ایک میڈیا ورکر کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے 30 صحافی تاحال اسرائیلی تحویل میں ہیں۔ فلسطین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک برائے فروخت نہیں ہے، اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں فلسطینی وزارت خارجہ نے لکھا کہ ’فلسطینی لوگ اپنی سرزمین پر موجود ہیں اور نسل پرست آبادکار حملہ آوروں کو ہمارا ملک چھوڑنا ہوگا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ایک ایسی بدمعاش ریاست کو مسترد کرے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے اور روزانہ نسل پرستانہ اقدامات کررہی ہے۔ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ مزاحمت ہمارا دستوری حق ہے، نہتے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خبر ایجنسی کے مطابق حماس نے بورڈ آف پیس سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے تک کسی قسم کا سیاسی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ شہری نظم و نسق کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہیں، تعمیر نو کے نام پر فلسطینی حقوق پر سودے بازی منظور نہیں، اسرائیل بورڈ آف پیس کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔غزہ کی پٹی کے شہریوں نے رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نماز تباہ شدہ مساجد اور مسمار شدہ عمارتوں کے ملبے پر ادا کی۔ نمازیوں نے بڑی تعداد میں تباہ شدہ مساجد کے گرد و نواح میں جمع ہو کر ان کے ملبے پر نماز قائم کی اور جمعہ کے خطبے سنے جن میں صبر اور باہمی ہمدردی پر زور دیا گیا۔الجزیرہ کے مطابق غزہ شہر میں واقع مسجد الکنز استقامت کی علامت بن گئی ہے جہاں متعدد محلوں سے نمازی نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اسرائیلی فوج نے جمعے کو غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل 132 ویں دن بھی جاری رکھا۔ اس دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری، فائرنگ اور مکانات کو دھماکوں سے اڑانے کی سفاکانہ کارروائیاں کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔