پنجاب :اسموگ کنٹرول کیلیے 30 جدید فوگ کینن نصب کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے اسموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے 3 ارب روپے کی لاگت سے 30 جدید فوگ کینن الیکٹرک ٹرکوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جو بڑے شہری اور صنعتی علاقوں میں گردوغبار کم کرنے میں مدد دیں گے۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جامع کلین ایئر اور کلائمیٹ ریزیلینٹ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد فضائی آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ حکام کے مطابق جدید فوگ کینن منصوبہ خاص طور پر آلودگی سے متاثرہ شہروں میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور ہوا میں موجود مضر ذرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ لاہور ائر امپروومنٹ فریم ورک کے تحت 2 ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے صاف ہوا کے لیے مربوط پروگرام شروع کیا جائے گا۔ پہلی بار سپر اسٹیشن سسٹم کے ذریعے لاہور میں فضائی آلودگی کے ذرائع کی ریئل ٹائم نشاندہی ممکن ہوگی، جبکہ ’’ون سٹی ون پالیسی‘‘ ماڈل کے تحت جدید ائر کوالٹی گورننس نافذ کی جائے گی۔ پنجاب بھر میں 50 سے زاید جدید ائر کوالٹی مانیٹرز نصب کیے جا چکے ہیں اور آٹومیٹڈ کوالٹی ایشورنس سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی یقینی بنائی جا سکے۔ صنعتی اخراج پر مؤثر کنٹرول کے لیے ڈیجیٹل ماحولیاتی مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی لیبارٹریز کی اَپ گریڈیشن، جدید آلات کی تنصیب اور اخراج کے تجزیے کے لیے خصوصی فرانزک سہولیات قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ’’انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ ڈیلوری یونٹ‘‘ قائم کی جا رہی ہے جو ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے کارکردگی کی مانیٹرنگ کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف اسموگ میں کمی آئے گی بلکہ عوامی صحت کے تحفظ اور پائیدار ماحولیاتی بہتری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔