وفاقی حکومت کی 55 ہزار اسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جارہی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کی جاری مشق کے نتیجے میں اب تک مختلف وزارتوں اور محکموں میں 55؍ ہزار 545؍ خالی آسامیوں کو ختم یا مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ساختی اصلاحات کے تحت اب تک 44؍ ہزار 286؍ خالی اسامیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 11؍ ہزار 259؍ آسامیوں کو ’’ڈائنگ کیڈر‘‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ اسامیاں خالی ہونے یا موجودہ عہدیداروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بتدریج ختم ہو جائیں گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اعلیٰ ذریعے نے بتایا کہ یہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں۔ یہ عمل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی کی نگرانی میں جاری ہے، جس کا مقصد وفاقی حکومت کو موثر بنانا، اخراجات میں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ 2024ء کے وسط میں شروع کی گئی اس رائٹ سائزنگ مہم میں تمام وفاقی وزارتیں، ان سے منسلک سیکڑوں محکمے اور خودمختار ادارے شامل ہیں۔ اس مشق کا بنیادی ہدف طویل عرصے سے خالی یا غیر ضروری آسامیاں ختم کرنا ہے تاکہ کم سے کم خلل کے ساتھ تنخواہوں کے بجٹ میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جاری معاشی چیلنجز کے تناظر میں بار بار کے اخراجات کو کم کرنے اور وفاقی افرادی قوت کے حجم کو معقول بنانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ 2024ء میں کابینہ نے وفاقی حکومت میں تقریباً ایک لاکھ 50؍ ہزار آسامیوں کے خاتمے کی منظوری دی تھی، ساتھ ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی اجازت دی گئی تھی تاکہ رائٹ سائزنگ سے متاثرہ ملازمین کیلئے مالی پیکیج فراہم کیا جا سکے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیوں میں سے 60؍ فیصد کو ختم یا ڈائنگ پوسٹس قرار دیا جانا تھا۔ پنشن کے بوجھ میں کمی کیلئے کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صفائی، پلمبنگ، باغبانی اور دیگر عمومی و غیر بنیادی خدمات سے متعلق تمام آسامیوں کو آئوٹ سورس کیا جائے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے وفاقی حکومت میں گریڈ ایک تا 16؍ تک کے عملے کی تعداد میں نمایاں کمی آئے گی اور پنشن اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔ کابینہ نے وزارتوں اور ڈویژنز میں تمام کنٹیجنسی پوسٹس کے خاتمے کی بھی منظوری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے دانستہ طور پر خالی آسامیوں پر توجہ مرکوز کی تاکہ حاضر سروس ملازمین کی برطرفیوں سے گریز کیا جا سکے۔ ڈائنگ کیڈر قرار دی گئی آسامیاں وقت کے ساتھ ختم ہوتی جائیں گی، جس سے بغیر فوری بے دخلی کے عملے کی تعداد میں تدریجی کمی ممکن ہو سکے گی۔ وفاقی حکومت میں ماضی میں لاکھوں منظور شدہ آسامیوں کی منظوری موجود تھی، جن میں سے ایک بڑی تعداد برسوں سے خالی تھی۔
انصارعباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت سامیوں کو ا سامیوں کیا جا خالی ا
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔