سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم ارکان آمنے سامنے، قتل کی دھمکیوں کے الزامات
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن رانا شوکت نے اپنی ہی جماعت کے ارکان شارق جمال اور اقبال محسود پر قتل کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کر دیے۔
اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا شوکت کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ تھانے کی پولیس کو بلا کر ان کی ایف آئی آر درج نہ کرائی گئی تو ان کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
بیان پر فوری ایکشن لیتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی نے پولیس کو ایوان میں طلب کر لیا اور اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کو مداخلت کر کے معاملہ حل کرانے کا مشورہ دیا۔
صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے رانا شوکت کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ شارق جمال کا کہنا تھا کہ یہ باہمی معاملہ تھا جو حل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔