data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں امریکی بحریہ کا جدید ترین اور سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرلڈ آر فورڈ USS Gerald R. Ford مشرقِ وسطیٰ کی سمت پیش قدمی کر رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جہاز کو بحیرۂ روم میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں ممکنہ فوجی سرگرمیوں سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق کیریئر اسٹرائیک گروپ آبنائے جبل الطارق عبور کر چکا ہے اور آئندہ چند روز میں مشرقِ وسطیٰ کے قریب پہنچنے کی توقع ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طیارہ بردار بیڑے کی موجودگی خود ایک مضبوط پیغام سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس پر درجنوں لڑاکا طیارے، جدید میزائل نظام اور ہزاروں اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جوہری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحری اور فضائی قوت کو خطے میں منتقل کرنا دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی کسی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری تصاویر میں بحیرۂ روم میں اس کیریئر کے عرشے سے ایف/اے-18 سپر ہارنیٹ طیاروں کی پروازیں دکھائی گئی ہیں، جو آپریشنل تیاری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات عموماً سفارتی دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، تاہم غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کی صورت میں صورتحال تیزی سے بگڑ بھی سکتی ہے۔

عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یورپی ممالک جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطہ کسی نئی جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہوں گے، کیونکہ فوجی طاقت کا یہ مظاہرہ مذاکراتی میز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار