ایران پرحملے کی تیاری ،دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ بہت قریب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-01-20
واشنگٹن / تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کی جانب سے ایران پر حملے کی تیاری،دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کے بہت قریب پہنچ گیا،یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر ایف 18 سپر ہارنیٹ جیٹس کے 5اسکوارڈنز تعینات ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے جنگی خطرات کے پیش نظر ناروے نے خطے سے اپنے فوجی نکالنے کا اعلان کردیا ہے ، دوسری جانب روس نے ایران سے رابطہ کیا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا،یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر ایف 18 سپر ہارنیٹ جیٹس کے 5 اسکوارڈنز تعینات ہیں جبکہ اس پر ای اے 18 جی گرولرز کا ایک سکوارڈن بھی موجود ہے جو الیکٹرانک وارفیئر میں دنیا کا بہترین جہاز سمجھا جاتا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔امریکی دفاعی حکام کے بقول طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے جس کے بعد یہ ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔ حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس تعیناتی کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جاری کی گئی تصاویر میں بحیرہ روم میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیارے کی پرواز بھی دکھائی گئی ہے جو امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔علاوہ ازیں ناروے کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت نے سلامتی کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اپنے تقریباً 60 فوجی اہلکاروں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ فورسز کو ناروے واپس کر دیا جائے گا، اور کچھ کو اسی خطے کے دوسرے ممالک میں منتقل کر کے محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔مزید برآں روسی وزارت خارجہ نے آج اپنے ٹیلی گرام چینل کے ذریعے اعلان کیا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں خطے میں خلیجی عرب ممالک کے ردعمل پر گہری نظر رکھتا ہوں۔ کوئی بھی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ آگ سے کھیل رہا ہے۔‘ روسی وزیر خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافہ حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے مثبت اقدامات کے اثرات کو ختم کر رہا ہے جن میں ایران کے پڑوسی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طیارہ بردار بحری دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ایران کے رہا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔