اینٹی نارکوٹکس فورس کی بڑی کارروائی، اسلام آباد،راولپنڈی میں منشیات فروخت کرنے والا غیر ملکی نیٹ ورک گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اینٹی نارکوٹکس فورس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں منشیات فروخت کرنے والے غیر ملکی نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا۔ اے این ایف نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکی منشیات نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت دو اہم کارندوں کو حراست میں لے لیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق گرفتار ملزمان نائجیرین منشیات نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے جو اسلام آباد اور راولپنڈی میں خصوصاً طلبہ کو کوکین اور آئس فراہم کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 860 گرام کوکین کیپسول، کوکین پیکٹس اور میتھ ایمفیٹامین برآمد کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گروہ کے سرغنہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ نیٹ ورک تعلیمی اداروں کے گرد منشیات کی سپلائی میں ملوث تھا۔
اے این ایف کے مطابق اسلام آباد میں موجود اس غیر ملکی منشیات نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے نیٹ ورک کے روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے اے این ایف کی جانب سے ”ڈرگ فری اسلام آباد“ مہم پر بھی بھرپور عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے کو منشیات سے پاک کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام آباد اے این ایف غیر ملکی نیٹ ورک
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔