نزلہ، فلو اور الرجی کے علاج کیلیے یونیورسل ویکسین کی تیاری میں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سانس کی عام بیماریوں جیسے نزلہ، زکام، فلو اور کووڈ سے بیک وقت تحفظ دینے والی ایک ممکنہ یونیورسل ویکسین کی تیاری میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے سٹینفورڈ میڈیسن کے سائنس دانوں نے ایک ایسے ویکسین فارمولے پر تجربات کیے ہیں جو مختلف وائرسز اور بیکٹیریا کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیق کے دوران چوہوں پر آزمائی جانے والی یہ ویکسین ناک کے ذریعے اسپرے کی صورت میں دی گئی، جس کے بعد پھیپھڑوں میں طویل عرصے تک حفاظتی اثرات دیکھے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار جسم کے مدافعتی نظام کو مقامی سطح پر متحرک کرتا ہے، جس سے سانس کی نالیوں کو براہ راست تحفظ ملتا ہے۔
اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر مالی پولیندران کے مطابق اگر یہی نتائج انسانوں میں بھی حاصل ہو گئے تو ہر سال متعدد ویکسین لگوانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ویکسین نہ صرف موجودہ بیماریوں بلکہ مستقبل میں ابھرنے والی نئی وباؤں کے خلاف بھی ابتدائی دفاع فراہم کر سکتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر انسانی آزمائشیں کامیاب رہیں تو یہ طبی سائنس میں ایک انقلابی قدم ہوگا، خصوصاً ان افراد کے لیے جو الرجی یا کمزور مدافعتی نظام کا شکار ہیں، تاہم وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل مزید تحقیق اور حفاظتی جائزے ضروری ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔