امریکا میں 28 گھنٹے مسلسل پکل بال کھیل کر عالمی ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست مشی گن کے شہر گرینڈ ریپڈز سے تعلق رکھنے والے 2 کھلاڑیوں نے پکل بال کے میدان میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بریڈ ہیورکیمپ اور کیلب ڈینگ نے مسلسل 28 گھنٹے تک سنگلز مقابلہ کھیل کر ایک طویل ترین میراتھون کا اعزاز اپنے نام کیا۔
کھلاڑیوں کے مطابق انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں یہ چیلنج قبول کیا اور پورے دورانیے میں انہیں ہر گھنٹے صرف 5 منٹ کے وقفے کی اجازت تھی۔ طویل کھیل کے دوران جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تاہم دونوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ کیلب ڈینگ کا کہنا تھا کہ ایک مرحلے پر ذہن جیسے خودکار انداز میں کھیلنے لگتا ہے اور وقت کا احساس مدھم ہو جاتا ہے۔
بعد ازاں جمع کرائے گئے ویڈیو شواہد اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ان کی کوشش کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔
ریکارڈ کی تصدیق کی خبر ملنے پر دونوں کھلاڑیوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف ریکارڈ بنانا نہیں بلکہ پکل بال کے کھیل کو فروغ دینا بھی تھا۔
کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ پکل بال تیزی سے مقبول ہونے والا کھیل ہے اور ایسے عالمی ریکارڈز اس کی پذیرائی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اس کامیابی نے نہ صرف دونوں کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر نمایاں کیا بلکہ مشیگن کی اسپورٹس کمیونٹی کے لیے بھی اعزاز کا باعث بنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔