قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بڑا انکشاف، گیس چوری سے سالانہ 60 ارب کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں رکن کمیٹی گل اصغر خان نے دونوں گیس کمپنیوں کی نجکاری کا مطالبہ کیا اورکہا کہ کاروبار کرنا سرکار کا کام نہیں۔
پنجاب: لگژری سرکاری گاڑیاں اور لامحدود پیٹرول، افسر شاہی کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری
گل اصغر خان نے کہا کہ دونوں گیس کمپنیوں کے سالانہ 60 ارب روپے کے نقصانات کو ئی چھوٹی بات نہیں، یہ بوجھ عوام برداشت کرتے ہیں۔
ایم ڈی سوئی ناردرن عامر طفیل نے بتایا کہ سوئی ناردرن کے گیس نقصانات لیکج اور چوری 5.
سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت کے مطابق ان کےسوئی سدرن کمپنی کے سالانہ نقصانات بھی 30 ارب روپے ہیں جنہیں 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لائے ہیں۔
ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام
رکن کمیٹی سید نوید قمر نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے۔
اس طرح تو گیس کمپنیاں تباہ ہو جائیں گی، جس پر ڈی جی گیس نے بتا یا کہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3283 ارب روپے ہے، جس میں 1452 ارب لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔
ڈی جی گیس نے مزید کہا کہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور کوٹلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی ہو ئی ہے۔
محکمہ صحت کا اہم فیصلہ، چھٹیوں کے لیے نئے احکامات جاری
مزید براں اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم ڈویژن کے اداروں کیلئے 4 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔