ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹس کا آغاز، آسٹریلیا باہر، زمبابوے کی حیران کن انٹری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ٹی20 ورلڈ کپ کے ‘سپر ایٹس’ مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے جہاں پاکستان اور نیوزی لینڈ آج کولمبو میں آج مدمقابل ہوں گے۔
سابق چیمپئن آسٹریلیا حیران کن طور پر اپنے گروپ سے آگے بڑھنے میں ناکام رہا، جس کے باعث یہ مرحلہ ان کے بغیر شروع ہو گا۔ 2009 کے بعد پہلا موقع ہے جب آسٹریلیا ٹی20 ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے میں نہیں پہنچ سکی۔
دوسری جانب زمبابوے نے ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گروپ بی میں اوّل مقام حاصل کیا، جہاں انہوں نے آسٹریلیا اور سری لنکا کو شکست دی۔ زمبابوے 2024 میں ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی تک نہیں کرسکا تھا اور اب اس کی اس کارکردگی نے سب کو حیران کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈکپ: پاکستان نیوزی لینڈ سپر ایٹس ٹاکرے سے قبل کولمبو میں موسم کی صورتحال کیا ہے؟
انڈیا، جو ٹی20 میں دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے، ہوم گراؤنڈ پر ٹائٹل برقرار رکھنے کے لیے سب سے بڑا امیدوار ہے۔ تاہم، دوسرے مرحلے میں جب وہ احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں جنوبی افریقہ سے ٹکرائیں گے تو انہیں 2024 کے فائنل کی سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دونوں ٹیموں نے پہلے مرحلے میں 4-4 میچ جیت کر کامیابی حاصل کی تھی۔ انڈیا ٹی20 ورلڈ کپ میں 12 میچوں سے ناقابل شکست ہے، یہ سلسلہ 2022 میں فائنل میں انگلینڈ سے شکست کے بعد شروع ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ: انگلینڈ نے اٹلی کو شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا
تاہم، انڈیا کی کارکردگی نقائص سے پاک نہیں رہی ہے اور ان کے ٹاپ آرڈر میں مسلسل مسئلہ نظر آرہا ہے، جہاں ان کے اوپپنگ بیٹر ابھیشک شرما متواتر 3 میچوں میں کوئی اسکور نہیں کرسکا۔
سپرایٹ کے گروپ 1 میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیا بھی ہیں، جو پیرکو ممبئی میں آمنے سامنے ہوں گے، اس گروپ کے تمام میچ انڈیا میں ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا زمبابوے کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا زمبابوے کرکٹ ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔