Jasarat News:
2026-07-24@05:39:05 GMT

سرخ لکیر

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260221-03-4
بنگلا دیش میں انتخابات کے نتائج کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی؟ کہا تو یہ ہی جا رہا ہے کہ نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کی تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔ بنگلا دیش کے انتخابات کے نتائج جس طرح پاکستان کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اسی طرح انڈیا کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس سے خطے میں ایک نئی صف بندی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات نظر آ رہی ہے کہ بنگلا دیش کی نئی حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مناسب سطح پہ رکھ کر آگے بڑھنا چاہے گی۔ شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ دور میں بنگلا دیش اور پاکستان کے تعلقات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والی حکومت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا چاہے گی کیونکہ بنگلا دیش نیشنل پارٹی نے ماضی میں بھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے۔

آج انتخابات میں کامیاب ہونے والی بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں کو انڈیا کی مخالف جماعت سمجھا جاتا ہے لہٰذا آج اگر مخلوط حکومت بنی تو بنگلا دیش میں انڈیا مخالف مظبوط حکومت ہوگی، لیکن یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہر ملک اپنے مفادات کو اہمیت دیتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ بنگلا دیش کی طویل سرحد ملتی ہے ساتھ ہی دیگر معاملات بھی جڑے ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنے سفارتی تعلقات میں آگے بڑھنا چاہیے اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ 2021 میں افغانستان میں جب طالبان حکومت آئی تھی تو اس زمانے میں پاکستان میں بہت زیادہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور پاکستان کے لیے اس کو خوش آئند قرار دیا جا رہا تھا بہت سارے رہنماؤں نے اور جماعتوں نے طالبان حکومت کا خیر مقدم بھی کیا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک طرح کی سر مہری ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ تناؤ پیدا ہو گیا وجہ جو بھی ہو۔۔ لیکن کسی بھی ملک کے تعلقات میں میانہ روی کی صورت بہتر ہوتی ہے۔ لہٰذا اس بات کا دھیان رہے کہ بنگلا دیش میں پاکستان کے بارے میں کسی طرح کے مخالف جذبات نہ پیدا ہونے پائیں، یہ بھی بات اہم ہے کہ بنگلا دیش کی کوئی بھی حکومت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک حد سے زیادہ خراب نہیں ہونے دیں گی کیونکہ بنگلا دیش کا انڈیا کے ساتھ ایک طویل بارڈر ہے اور خلیج بنگال میں بھی انڈیا کا اثر ہے، یقینا بنگلا دیشی نئی حکومت اس بارے میں انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل رکھنے کی کوشش کرے گی اور اپنی خارجہ پالیسی کو انہی بنیادوں پر قائم کرے گی البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ انڈیا کے ساتھ اس طرح کے تعلقات نہ ہوں جیسے کہ شیخ حسینہ واجد یا شیخ مجیب کے زمانے میں تھے۔ یقینا وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش اپنے اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں اور ویزا اور ٹیرف کی پالیسی کو اپنائیں اور کوئی دفاعی معاہدہ بھی کر لیں بالکل ویسے ہی جیسے کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا کہ ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے۔

خطہ میں بھارت کے پالیسی جارحانہ اور دباؤ کی رہی ہے یہ انڈیا کے لیے منفی خارجہ پالیسی بنی، جس کے باعث بھارت کے ہمسایوں کو اس سے ہمیشہ شکایت رہی ہے اور انہی وجوہات کی وجہ سے پاکستان اور بنگلا دیش ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں لہٰذا خطے میں ایک طرح کی نئی صف بندی نظر آرہی ہے جس میں پاکستان بنگلا دیش اور چین ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی اور نیشنل پارٹی دونوں ہی پاکستان سے قربت کے احساس رکھتے ہیں لہٰذا اگر دونوں کی مخلوط حکومت قائم نہ بھی ہو پھر بھی کسی کی بھی حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے ہوں گے یقینا پاکستان کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔

بھارت صورت حال کو بھانپ کر پہلے ہی نیشنلسٹ پارٹی سے تعلقات میں پہل کر چکا ہے خالدہ ضیا کی وفات پر انڈین وزیر خارجہ ڈھاکا آئے تھے اور انہوں نے بی این پی کی چیئر پرسن کو خراج تحسین پیش کرنے کا تعزیتی پیغام دیا تھا جس سے انڈیا کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں موقف کا اظہار ہوتا ہے۔ بھارت ہو یا کوئی بھی ملک اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا اہم سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں کسی ایک جماعت کے ساتھ دوستی پر انحصار نہیں کرتا لہٰذا بھارت بھی بنگلا دیش کے ساتھ دوستی کرنے میں نہیں ہچکچائے گا اور یہ معاملہ حسینہ واجد کے لیے سرخ لکیر بن سکتا ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلا دیش انڈیا کے ساتھ بنگلا دیش میں کہ بنگلا دیش بنگلا دیش کی پاکستان کے تعلقات میں تعلقات کو کے تعلقات حکومت ا کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم