Juraat:
2026-07-24@00:54:16 GMT

زرداری اور شبنم

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

زرداری اور شبنم

بے لگام / ستار چوہدری

 

طاقت کردارکو نہیں بدلتی، وہ اسے بے نقاب کرتی ہے ، اقتدارانسان کو بڑا نہیں بناتا اگر اندر سے وہ چھوٹا ہو۔ زرداری صاحب کا فلسفہ ہے ، طاقت بندوق سے نہیں،ڈیل سے آتی ہے ،سیاست،خدمت نہیں واردات ہے ،وہ کرپشن کو مفاہمت کے کفن میں لپیٹنا جانتے ہیں، پاکستان ایک کمپنی۔۔۔ اور بلاول کوسی ای او بنانا ان کی آخری خواہش۔۔۔ ہائے !!
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ۔۔!!
تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔
یہ ایک ایسی آیت ہے جو محض مذہبی نصیحت نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کا آئینہ ہے ،جب کوئی حکمران اپنی دولت، اختیاراوررشتوں کو ریاست سے اوپررکھنا شروع کردے ، تو وہ صرف بدعنوان نہیں ہوتا، پورے نظام کا قاتل ہوتا ہے ۔ زرداری کی زندگی کا مرکزی نکتہ اب ملک نہیں،اولاد کی تخت نشینی ہے ،ان کے اتحاد،وزارتیں،بیانات یہاں تک کہ صدارتی منصب بھی ایک ہی خواب کے لیے استعمال ہو رہا ہے ، بلاول کو کسی نہ کسی طرح وزیراعظم بنایا جائے ۔۔۔ سوال بلاول کی خواہش کا نہیں، سوال اس راستے کا ہے جو پیپلزپارٹی ہمیشہ اقتدار کیلئے کرتی ہے ،پہلا اقتدار ملک توڑ کر حاصل کیا ،آغاز ایک آمر کو ڈیڈی بنا کرہواتھا،بلاول، ہے کون ۔۔۔؟ شناخت صرف اتنی،وہ بے نظیر کا بیٹا ہے ، پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سانحہ،دوخاندان مسلط ،یوں کہیں، ملک پرجاہلیت مسلط ۔
” گیارہ سال جیل کاٹ چکا ہوں ”۔۔۔۔ تاریخ ایک سادہ سا سوال پوچھتی ہے جیل کیوں کاٹی۔۔۔؟ کیا آپ نے آمریت کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔۔؟کیا کوئی عوامی تحریک چلائی تھی ۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ حضور !! بدعنوانی،منی لانڈرنگ،جعلی اکاؤنٹس اورسرکاری وسائل کی لوٹ مار کے مقدمات تھے ، سب کو یاد ہے ،اسٹیٹ بینک کا نوٹوں بھرا ٹرک کس نے غائب کیا تھا،سب کو یاد ہے الطاف انڑ کا واقعہ،سب کو یاد ہے ایان علی،سب کویاد ہے اومنی گروپ،سب کو یاد ہیں شوگر ملیں،سب کو پٹارو کالج والی کہانی بھی یاد ہے ،سب کو یاد ہے نوازشریف سے مل کر”میثاق جمہوریت ” کے نام پر لوٹ مار کا معاہدہ،سب کو یاد ہے جب آپ نے کہا تھا وعدے قران وحدیث نہیں ہوتے ۔۔۔ فخر کس بات کا۔۔۔؟ ضیا شاہد کے بقول جیل کے قریب بنگلے میں رہتے تھے جہاں اداکارہ نور سمیت متعدد اداکاراؤں کی سہولت میسرتھی۔قید اگر قوم کے لیے ہو تو وہ تاریخ بن جاتی ہے ، اوراگرذاتی مفاد کے مقدمات میں ہو تو وہ صرف ایک عدالتی باب رہ جاتی ہے ۔
بہادری کے قصے سن لیں،زندگی میں ایک ہی بار للکارکرکہا تھا ” اینٹ سے اینٹ بجادوں گا ”۔۔۔اگلے ہی دن ملک سے بھاگ گئے ، ”انقلاب” چوبیس گھنٹے بھی نکال سکا،دبئی بھی چھپ گئے ،یہ تضاد زرداری سیاست کا بنیادی وصف ہے ، تقریر میں مزاحمت، عمل میں مصلحت۔ ایک طرف عوام کو آمریت کے خلاف اکساتے رہے ، دوسری طرف خود محفوظ سرزمین پرجا بیٹھے ۔ واپسی کے لیے دو سال پاؤں دباتے رہے ،ترلے ،منتیں ،یہاں سوال صرف فرارکا نہیں، سوال دوہرے معیار کا ہے ۔ جو لیڈر خود خطرہ مول نہ لے وہ قوم کو قربانی کا درس کیسے دے سکتا ہے ۔۔۔۔؟ اور پھر وہی زرداری جو خود طاقت کے سامنے جھکے ، بعد میں خود کو جمہوریت کا محافظ کہلوانے لگے ۔ یہی وہ سیاست ہے جس میں الفاظ بڑے اور کردار چھوٹا ہوتا ہے ۔دبئی کی سرزمین بھٹو،زرداری خاندان کیلئے بڑی زرخیز ہے ،بے نظیر بھی جنرل مشرف سے دبئی میں ہی این آراو حاصل کرکے پاکستان واپس لوٹی تھیں۔
اقتدار ایک آئینہ ہوتا ہے ۔ یہ انسان کو بڑا نہیں بناتا، یہ اسے ظاہر کر دیتا ہے ۔آصف علی زرداری دوسری بار ملک کے صدر بنے ہوئے ہیں، ان کے پاس ایک موقع تھا، وہ اپنے ماضی کے داغ دھو دیتے ، بردباری، وقار اورریاستی اخلاقیات کی مثال قائم کرتے ۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ عمران خان کی بیماری کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو ایک سربراہِ مملکت کے شایان شان رویہ ہمدردی یا خاموشی ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہاں مذاق، طنز اور تحقیر دکھائی دی۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جب قوم نے دیکھ لیا کہ عہدہ بڑا ہو سکتا ہے لیکن کردارنہیں۔ یہی زرداری سیاست کا اصل مسئلہ ہے وہ طاقت کو وقار میں نہیں، برتری میں بدل دیتے ہیں۔ ان کے لہجے میں ہمیشہ ایک تاثر رہا ہے ”میں بچ نکلا،تم نہیں”۔۔۔یہی وہ سوچ ہے جو سیاست کو خدمت کے بجائے ایک کامیاب واردات بنا دیتی ہے ۔ صدر بن جانا کوئی عظمت نہیں، عظمت یہ ہے کہ آپ اختلاف رکھنے والوں کو بھی انسان سمجھیں۔ لیکن جب اقتدار انسان کو مغرور بنا دے ، تو وہ ریاست نہیں چلاتا، وہ صرف اپنا دائرہ بڑھاتا ہے۔ طاقت کا سب سے بڑا دشمن وقت ہوتا ہے ۔ لوگ بھول جائیں تو حکمران بچ جاتے ہیں، اور اگر قوم کو یاد آ جائے تو محلات لرزنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے عوام سب کچھ جانتے ہیں، بس ان کی یادداشت کو بار بار دھندلایا جاتا ہے ۔ انہیں نئے نعروں، نئے بحرانوں، نئے تماشوں میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ پرانی لوٹ مارپرسوال نہ اٹھے ۔۔۔
حقیقت یا افسانہ یا لطیفہ۔۔۔۔؟ معروف اداکارہ شبنم کافی عرصے بعد بنگلہ دیش سے پاکستان تشریف لائیں،پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ایک عرصہ انہوں نے راج کیا تھا،واپسی پرخوشی اورغمی کے ملتے جلتے اثرات میں گفتگو کررہی تھیں،ایک صحافی نے پوچھا،آپ ایک عرصے بعد پاکستان تشریف لائیں،آپ کو پاکستان کیسے لگا۔۔۔۔؟ وہ مسکرائیں اور کہا،پاکستان نے بہت ترقی کرلی ہے ،ترقی کی سب سے بڑی مثال یہی ہے ،میری فلموں کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت کرنے والا ملک کا صدربن چکا ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سب کو یاد ہے سیاست کا ہوتا ہے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف