کوئٹہ سے مبینہ طور پر فتنہ الہندوستان کے ساتھ جانے والی لڑکی کے والد کا بیٹی سے اظہار لاتعلقی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بلوچستان کے ضلع آواران کی نوجوان طالبہ ثانیہ 30 دسمبر 2025 سے لاپتا ہے۔
اس سلسلے میں آج ان کے والد حسن نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا
حسن نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ثانیہ کو کسی گروہ، جیسے بی ایل اے یا بی وائی سی نے ورغلا کر اپنے ساتھ لے گئی ہو۔ انہوں نے ان تنظیموں کی سخت مذمت کی، جنہوں نے نوجوان لڑکیوں کو نفسیاتی دباؤ، ورغلاؤ اور جھوٹے نعروں کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
حسن نے بتایا کہ ثانیہ کوئٹہ میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور اچانک لاپتا ہوگئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کا خاندان پاکستانی ہیں اور پاکستان کو چاہتے ہیں، اس لیے آج کے بعد ان کا بیٹی ثانیہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔