Jasarat News:
2026-06-02@21:56:46 GMT

سرخ لکیر

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش میں انتخابات کے نتائج کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی؟ کہا تو یہ ہی جا رہا ہے کہ نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کی تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔ بنگلا دیش کے انتخابات کے نتائج جس طرح پاکستان کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اسی طرح انڈیا کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس سے خطے میں ایک نئی صف بندی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات نظر آ رہی ہے کہ بنگلا دیش کی نئی حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مناسب سطح پہ رکھ کر آگے بڑھنا چاہے گی۔ شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ دور میں بنگلا دیش اور پاکستان کے تعلقات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والی حکومت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا چاہے گی کیونکہ بنگلا دیش نیشنل پارٹی نے ماضی میں بھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے۔

آج انتخابات میں کامیاب ہونے والی بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں کو انڈیا کی مخالف جماعت سمجھا جاتا ہے لہٰذا آج اگر مخلوط حکومت بنی تو بنگلا دیش میں انڈیا مخالف مظبوط حکومت ہوگی، لیکن یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہر ملک اپنے مفادات کو اہمیت دیتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ بنگلا دیش کی طویل سرحد ملتی ہے ساتھ ہی دیگر معاملات بھی جڑے ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنے سفارتی تعلقات میں آگے بڑھنا چاہیے اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ 2021 میں افغانستان میں جب طالبان حکومت آئی تھی تو اس زمانے میں پاکستان میں بہت زیادہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور پاکستان کے لیے اس کو خوش آئند قرار دیا جا رہا تھا بہت سارے رہنماؤں نے اور جماعتوں نے طالبان حکومت کا خیر مقدم بھی کیا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک طرح کی سر مہری ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ تناؤ پیدا ہو گیا وجہ جو بھی ہو۔۔ لیکن کسی بھی ملک کے تعلقات میں میانہ روی کی صورت بہتر ہوتی ہے۔ لہٰذا اس بات کا دھیان رہے کہ بنگلا دیش میں پاکستان کے بارے میں کسی طرح کے مخالف جذبات نہ پیدا ہونے پائیں، یہ بھی بات اہم ہے کہ بنگلا دیش کی کوئی بھی حکومت انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک حد سے زیادہ خراب نہیں ہونے دیں گی کیونکہ بنگلا دیش کا انڈیا کے ساتھ ایک طویل بارڈر ہے اور خلیج بنگال میں بھی انڈیا کا اثر ہے، یقینا بنگلا دیشی نئی حکومت اس بارے میں انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نارمل رکھنے کی کوشش کرے گی اور اپنی خارجہ پالیسی کو انہی بنیادوں پر قائم کرے گی البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ انڈیا کے ساتھ اس طرح کے تعلقات نہ ہوں جیسے کہ شیخ حسینہ واجد یا شیخ مجیب کے زمانے میں تھے۔ یقینا وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش اپنے اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں اور ویزا اور ٹیرف کی پالیسی کو اپنائیں اور کوئی دفاعی معاہدہ بھی کر لیں بالکل ویسے ہی جیسے کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا کہ ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے۔

خطہ میں بھارت کے پالیسی جارحانہ اور دباؤ کی رہی ہے یہ انڈیا کے لیے منفی خارجہ پالیسی بنی، جس کے باعث بھارت کے ہمسایوں کو اس سے ہمیشہ شکایت رہی ہے اور انہی وجوہات کی وجہ سے پاکستان اور بنگلا دیش ایک دوسرے کے قریب ہو گئے ہیں لہٰذا خطے میں ایک طرح کی نئی صف بندی نظر آرہی ہے جس میں پاکستان بنگلا دیش اور چین ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی اور نیشنل پارٹی دونوں ہی پاکستان سے قربت کے احساس رکھتے ہیں لہٰذا اگر دونوں کی مخلوط حکومت قائم نہ بھی ہو پھر بھی کسی کی بھی حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے ہوں گے یقینا پاکستان کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔

بھارت صورت حال کو بھانپ کر پہلے ہی نیشنلسٹ پارٹی سے تعلقات میں پہل کر چکا ہے خالدہ ضیا کی وفات پر انڈین وزیر خارجہ ڈھاکا آئے تھے اور انہوں نے بی این پی کی چیئر پرسن کو خراج تحسین پیش کرنے کا تعزیتی پیغام دیا تھا جس سے انڈیا کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں موقف کا اظہار ہوتا ہے۔ بھارت ہو یا کوئی بھی ملک اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا اہم سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں کسی ایک جماعت کے ساتھ دوستی پر انحصار نہیں کرتا لہٰذا بھارت بھی بنگلا دیش کے ساتھ دوستی کرنے میں نہیں ہچکچائے گا اور یہ معاملہ حسینہ واجد کے لیے سرخ لکیر بن سکتا ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلا دیش انڈیا کے ساتھ بنگلا دیش میں کہ بنگلا دیش بنگلا دیش کی پاکستان کے تعلقات میں تعلقات کو کے تعلقات حکومت ا کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم