وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کے پی حکومت ابھی تک رمضان پیکج کی تقسیم تو دور اعلان بھی نہیں کرسکی۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب میں رمضان نگہبان پیکج کی تقسیم کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، ہر مستحق کو میرٹ کی بنیاد پر اسکی دہلیز پر امداد پہنچائی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت کےلیے بانی کی آنکھ،بانی کے دانت اور بانی کی جیل میں آسائشیں اہم ہیں، کے پی حکومت کا فوکس رمضان سے زیادہ رہائی فورس اور نیا فتنہ پھیلانے پر ہے جبکہ خیبر پختونخواہ میں ابھی تک ڈیجیٹل ڈیٹا ہی جمع نہیں کیا جا سکا۔عظمیٰ بخاری نے کہا گزشتہ سال بھی کے پی حکومت کا رمضان پیکج پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی فہرستوں پر دیا گیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے صوبے بھر میں سروے مکمل کیا، اس سروے کے تحت پنجاب کے ہر شہری کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، پنجاب میں اسی سروے کے تحت 42 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ مل رہے ہیں تاہم اسی کے تحت مسیحی برادری کو بھی امدادی رقم الگ سے مل رہی ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج ہے، پنجاب واحد صوبہ ہے جس میں 74 سہولت بازار فنکشنل ہو چکے ہیں۔مریم کے دسترخوان سے روزانہ ہر تحصیل میں دو ہزار روزہ داروں کی افطاری کروائی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے پی حکومت رمضان پیکج

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان