امریکا و ایران میں کشیدگی پر سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کو تشویش
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
انہوں نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے امریکا اور ایران سے سفارت کاری کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا ہے کہ سیکریٹری جنرل یو این انتونیو گوتریس کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر سیکریٹری جنرل کو شدید تشویش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے امریکا اور ایران سے سفارت کاری کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔