اہل کراچی کیلیے خوشخبری، ٹرانسپورٹ میں بہتری کیلیے نئی بسیں متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کراچی:
حکومت سندھ نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے مزید نئی بسیں جلد متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ریڈ لائن بی آر ٹی سمیت جاری منصوبوں، عوامی سہولت اور کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو، پی ڈی یلو لائن کمال دایو، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو کے علاوہ متعلقہ انجینئرز اور کنسلٹنٹس نے شرکت کی۔
سی ای او ٹرانس کراچی نے اجلاس کو جاری ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے اہداف سے متعلق آگاہ کیا۔
اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر کام کی رفتار مجموعی طور پر تسلی بخش ہے تاہم اسے مزید تیز کیا جائے اور تمام متعلقہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور کی بروقت تکمیل حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات، ٹریفک جام اور روزمرہ کی پریشانیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
سینئر وزیر نے ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں کے دوران متبادل ٹریفک پلان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مؤثر آگہی مہم کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم ہوں اور انہیں کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے نئی بسوں کے آغاز کے عمل کو تیز کرنے اور ایسے روٹس کے انتخاب کی ہدایت بھی کی جہاں عوام کو سب سے زیادہ سفری مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بس سروس میں توسیع سے شہریوں کو محفوظ، سستی اور باوقار سفری سہولت میسر آئے گی۔
شرجیل انعام میمن نے سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے پر تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے عوام کو جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بی آر ٹی منصوبوں کے ساتھ نئی بسوں کا آغاز شہری زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی آر ٹی
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں