لاکھوں مالیت کی ٹکٹیں خریدنے والے عمرہ زائرین ہوٹلوں میں خوار ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاکھوں روپے مالیت کی ٹکٹیں خریدنے کے باوجود ڈھائی سو سے زائد عمرہ زائرین پہلے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پھر مختلف ہوٹلوں میں خوار ہونے لگے۔ سعودی ائر لائن نے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد اچانک پرواز منسوخ کر دی۔ عمرہ زائرین احرام باندھ کر جانے کے انتظار میں مگر متعلقہ ائر لائن کوئی جواب نہیں دے رہی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سعودی ائر لائن سے عمرہ کے لیے جانے والے 250 زائد عمرہ زائرین تین دن سے لاہور کے مختلف ہوٹلوں میں خوار ہونے پر مجبور ہوگئے، کوئی پرسان حال نہیں۔ عمرہ زائرین نے ہوٹل کے اندر ہی احتجاج شروع کر دیا جبکہ متعلقہ ائر لائن سے رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔جمعہ کے دن عمرہ زائرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو لاہور سے سعودی ائر لائن کے ذریعے انہوں نے جدہ جانا تھا، حرم شریف میں اور مدینہ شریف میں ان کی بکنگ تھی، 3 دن ہوگئے۔ عین وقت پر پرواز کو یہ کہہ کر منسوخ کر دیا گیا کہ جہاز میں خرابی پیدا ہوگئی۔ عمرہ زائرین نے پہلے ائرپورٹ پر سعودی ائر لائن حکام سے بات چیت کی تو ان کو ہوٹل میں بتایا گیا کہ کل صبح لے کر چلے جائیں گے مگر وہ کل آج تک نہیں آئی۔ پاکستان ائر پورٹ اتھارٹی کو بھی انہوں نے کئی بار کمپلینٹ کی لیکن ان کی طرف سے بھی کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ عمرہ زائرین کا کہنا ہے کہ خواتین بچے بزرگ بھی شامل ہیں، ہمارا کیا قصور ہے، لاکھوں روپے کی ٹکٹ لی اور آج 3دن ہوگئے ہیں، یہ ہمیں لے جانے کے لیے تیار ہی نہیں، کوئی یہ بتانے کو بھی تیار نہیں کہ فلائٹ کب روانہ ہوگی۔ ہمارا سارا شیڈول خراب ہو چکا ہے، مدینہ شریف میں بھی اور مکہ معظمہ میں بھی۔ ہماری بکنگ تھی، کچھ لوگ گروپ کی صورت میں عمرہ کرنے جا رہے تھے اور ان کا بھی عمرہ خراب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 دن بعد پہنچیں گے تو وہاں پر ہوٹل ہمیں کیسے ملے گا، وہاں کی ہوٹل انتظامیہ نے کہہ دیا ہے کہ مزید بکنگ نہیں کیونکہ رمضان المبارک کی وجہ سے زائرین کا رش بہت بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ائر لائن کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہمیں بروقت جدہ پہنچایا جائے تاکہ ہم عمرے کی ادائیگی با آسانی کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سعودی ائر لائن انہوں نے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔