Daily Sub News:
2026-07-24@01:02:08 GMT

پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، خواجہ آصف

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، خواجہ آصف

پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 20 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور کابل پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ایک پیج پر ہیں، کابل دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں، اگر کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا تو نئی کارروائیوں سے نہیں ہچکچائیں گے۔
جمعہ کو اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، ہوسکتا ہے سہولتوں سے متعلق لوگوں نے اپروچ کیا ہو، پی ٹی آئی کی ان باتوں کا مقصد آسرا دینا ہوتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ امریکا کامیاب رہا، غزہ پیس آف بورڈ میں مسلم ممالک کی شرکت کے مثبت نتائج نکلیں گے، بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کی پذیرائی ہوئی، پاکستان کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں وسیع تجربہ حاصل ہے، دیکھتے ہیں غزہ امن فورس کے لیے کس قسم کی شرائط کا مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہے، نئی دہلی اور کابل پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ایک پیج پر ہیں، کابل دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اگر کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا تو نئی کارروائیوں سے ہچکچائیں گے نہیں، اسلام آباد دھماکے سمیت کئی حملوں کے پیچھے بیرونی ہاتھ کار فرما ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 2مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیرئیر کالج کی سوچ اور نظریہ محنت اور ایمانداری ہے، جاوید انتظار بانی پی ٹی آئی کی 2024میں ڈیل فائنل ہو چکی تھی، اختیار ولی خان کا دعوی حملے کی تیاری، دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کہ پاکستان خواجہ آصف پی ٹی آئی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار