60 ارب کی سالانہ گیس چوری، بھاری بھرکم بوجھ غریب عوام پر
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک میں گیس چوری کے سنگین مسئلے نے ایک بار پھر پارلیمانی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے جہاں سوئی گیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ اس میں سے تقریباً 30 ارب روپے کا نقصان سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ جبکہ اتنا ہی نقصان سوئی سدرن گیس کمپنی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اجلاس کی صدارت سید مصطفیٰ محمود نے کی جبکہ مختلف اراکین نے گیس چوری اور نقصانات کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
حکام نے بتایا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک یو ایف جی یعنی لائن لاسز اور چوری کے نقصانات صارفین پر منتقل کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یو ایف جی کی شرح تقریباً 6 فیصد تک ہوتی ہے مگر سوئی سدرن میں یہ شرح 10 فیصد سے زائد ہے۔
اراکین اسمبلی نے سوال اٹھایا کہ اگر صنعتی صارفین گیس چوری میں ملوث ہیں تو اس کا بوجھ گھریلو صارفین پر کیوں ڈالا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق سوئی سدرن سے سالانہ تقریباً 30 بی سی ایف گیس چوری ہو رہی ہے جو مالی لحاظ سے اربوں روپے بنتی ہے۔
اجلاس میں پیٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کے استعمال پر بھی بحث ہوئی۔ اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ جس مقصد کے لیے فنڈ جمع کیا گیا وہ حاصل نہیں ہوسکا اور پالیسی سازی میں تاخیر نااہلی کی عکاس ہے۔
حکام نے یقین دہانی کرائی کہ فنڈ کے مؤثر استعمال کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے، تاہم کمیٹی اراکین نے اس تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس چوری نہ صرف قومی خزانے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے دیانتدار صارفین پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ اگر مؤثر نگرانی، جدید میٹرنگ نظام اور سخت قانونی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔