پاکستان پوسٹ آفس کے ذریعے بجلی بل جمع کرانے کی سہولت ختم
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے اعلان کیا ہے کہ اب بجلی کے بل پاکستان پوسٹ کے ذریعے جمع کرانے کی سہولت ختم کر دی گئی ہے، یہ فیصلہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے اور ادائیگی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں کے بجائے ڈیجیٹل اور متبادل ادائیگی ذرائع کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بل جمع کرانے کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے گا بلکہ قطاروں اور تاخیر جیسے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ کمپنی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ بروقت ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ، بینکوں، موبائل بینکنگ ایپس اور دیگر مجاز چینلز استعمال کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جدید ادائیگی ذرائع اختیار کرنے سے صارفین کسی بھی ممکنہ پریشانی، جرمانے یا بل کی تاخیر سے بچ سکتے ہیں، ملک بھر میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اسی تناظر میں ادارہ بھی اپنی سروسز کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ صارفین کو سہولت اور شفافیت فراہم کی جا سکے۔
ادارے نے مزید وضاحت کی کہ پوسٹ آفس کے ذریعے ادائیگی بند کرنے کا مقصد صارفین کو مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ انہیں تیز، محفوظ اور آسان متبادل فراہم کرنا ہے، آن لائن ادائیگی کے نظام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ ریکارڈ کی درستگی اور فوری تصدیق بھی ممکن ہوتی ہے، جس سے شکایات میں کمی آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل صارفین کو
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔