علی امین گنڈاپور پر آڈیو لیک کیس میں فردِ جرم عائد، وارنٹ گرفتاری منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں آڈیو لیک کیس کی سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہو گئے، جس کے بعد ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی ختم کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے گئے۔
سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کی، علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈوکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شریک ملزم اسد فاروق خان بھی عدالت میں موجود تھے۔
پنجاب: لگژری سرکاری گاڑیاں اور لامحدود پیٹرول، افسر شاہی کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری
عدالت نے علی امین گنڈاپور اور اسد فاروق خان پر آڈیو لیک کیس میں فردِ جرم عائد کر دی، دورانِ سماعت جج نے ریمارکس دیے کہ آپ تو عدالت پیش ہی نہیں ہوتے رہے، جس پر علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ کال پر لائسنس کے حوالے سے بات کر رہے تھے اور چھاپوں کے دوران ان کے موبائل فون بھی لے لیے گئے، جج نصر من اللہ بلوچ نے ریمارکس دیے کہ محض پراسیکیوشن کے کہنے پر سزا نہیں دی جا سکتی اور کیس میں طویل عرصے سے فردِ جرم عائد نہیں ہوئی تھی۔
ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام
وکیل صفائی راجہ ظہور الحسن نے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی اور مؤقف اپنایا کہ اگر ملزم عدالت میں پیش ہو جائے تو عدالت کے پاس وارنٹ منسوخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، عدالت نے وارنٹ منسوخ کرتے ہوئے آئندہ احتیاط برتنے اور باقاعدگی سے پیش ہونے کی ہدایت کی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر آئندہ ایسی صورتحال ہو تو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جائے، بعد ازاں کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
محکمہ صحت کا اہم فیصلہ، چھٹیوں کے لیے نئے احکامات جاری
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہو
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔