آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی۔ علی امین گنڈاپور ضلعی کچہری میں پیش ہوئے اور سرنڈر کیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شریک ملزم اسد فاروق خان بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔
عدالت نے آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور اور اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی بھی ختم کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ تو عدالت پیش ہی نہیں ہوتے رہے، جس پر علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال پر صرف لائسنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور چھاپوں کے دوران ان کے موبائل بھی لے لیے گئے۔
جج نصر من اللہ بلوچ نے ریمارکس دیے کہ صرف پراسیکوشن کے کہنے پر سزا نہیں ہو سکتی اور کیس طویل عرصے سے زیرِ سماعت ہے۔
وکیلِ صفائی نے وارنٹ منسوخ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا حکومت کو رمضان پیکیج سے زیادہ بانی کے دانت اور آنکھ اہم ہیں، عظمٰی بخاری خیبرپختونخوا حکومت کو رمضان پیکیج سے زیادہ بانی کے دانت اور آنکھ اہم ہیں، عظمٰی بخاری شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ برآمدات کے فروغ کے لیے فعال ٹریڈ ڈپلومیسی ناگزیر ہے: سردار طاہر محمود صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغامCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور ا ڈیو لیک کیس کیس میں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔