اسلام آباد ہائی کورٹ—فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدامِ قتل کیس میں ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اقدامِ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ایک بڑا فیصلہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے، اس لیے ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملزم ضمانت کی رعایت کا حق دار نہیں ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم فواد پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔

جزلان قتل کیس: ضمانت مسترد ہونے پر ملزمان عدالت سے فرار

کیس میں ملوث ملزم حسنین پہلے ہی جیل میں ہے جبکہ ملزم فیض محمد اور احسان عبوری ضمانت پر تھے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3 گولیاں لگیں ہیں اور دورانِ تفتیش ملزم سے وارادت میں استعمال پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے اور چند گھنٹوں کی تاخیر سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا، جبکہ پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے اور ملزم ضمانت کا حق دار نہیں ہے، یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں، ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔

جسٹس خادم حسین نے اقدامِ قتل کے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہائی کورٹ قتل کیس

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم