سپریم کورٹ کے فیصلے کے جواب میں ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف کے فیصلے کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع عالمی ٹیرف پلان کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ انہوں نے قانون کے بغیر خود سے ٹیرف عائد کیا تھا۔
ٹرمپ نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور فوراً ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے تحت تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد کردیا گیا جسے 150 دن تک نافذ رکھا جائے گا، بشرطیکہ کانگریس اسے توسیع نہ دے۔
نئی 10 فیصد ٹیرف تمام ملکوں سے آنے والی درآمدات پر لاگو ہوگا۔ اگرچہ کچھ اشیا اور مخصوص ممالک (مثلاً کینیڈا اور میکسیکو کیلئے کچھ استثنیٰ بھی بیان کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جارہا ہے، کیونکہ عدالت نے کارپوریٹ اور اقتصادی امور میں کانگریس کے کردار کو فوقیت دی ہے۔
ٹرمپ کا نیا 10 فیصد ٹیرف عالمی تجارت کے اصولوں کو تبدیل کرنے کا اعلان ہے۔ کچھ ممالک نے اس پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ بعض نے اس کو تجارتی تناؤ میں اضافہ قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ فیصد ٹیرف ٹیرف عائد
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔