Express News:
2026-06-03@01:15:04 GMT

ڈکیتی کے دوران ریپ کے واقعات ختم ہو چکے، سی سی ڈی پنجاب

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

سی سی ڈی پنجاب نے انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی) کی جانب سے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سی سی ڈی پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایچ آر سی پی کے الزام میں کوئی ثبوت نہیں جبکہ سی سی ڈی سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سی سی ڈی سے مقابلوں میں 19پولیس اہلکار شہید 167 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ آپریشنز کی وجہ سے جرائم کی شرح میں 80 فیصد کمی آئی۔

مزید پڑھیں

ایچ آر سی پی کا سی سی ڈی کے ہاتھوں ہلاکتوں پر اعلیٰ سطح عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

بھکر، سی سی ڈی پولیس پر مسلح حملہ، تین اہلکار زخمی، فائرنگ سے کمسن بچی بھی جاں بحق

بھکر میں پولیس مقابلہ، سی سی ڈی کے 2 افسران شدید زخمی 

ترجمان کے مطابق ڈکیتی کی 78 اور قتل کی وارداتوں میں 39 فیصد جبکہ گھروں میں ڈکیتی کے جرائم میں 80 فیصد کمی ہوئی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں موٹر سائیکل چوری میں 69 فیصد اور گاڑی چھننے کی وارداتوں میں 50 فیصد کمی ہوئی اور آپریشنز کی بدولت ڈکیتی کے دوران ریپ کے واقعات ختم ہو چکے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی نے موثر حکمت عملی سے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی کمر توڑ کرعوام کا اعتماد بحال کردیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی سی ڈی

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے