سول ہسپتال اور بی ایم سی کی نجکاری غریب عوام کیساتھ ظلم ہے، پشتونخوا میپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پشتونخوا میپ کے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دو بڑے سرکاری ہسپتالوں کیلئے اٹونومس باڈی کا نوٹیفکیشن کرنا دراصل غریب عوام سے سرکاری علاج و معالجہ اور صحت کی بنیادی سہولیات چھیننے کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں مسلط نام نہاد حکومت کی جانب سے انگریزی دور حکومت میں قائم شدہ سنڈیمن پرونشل ہسپتال (سول ہسپتال) کوئٹہ اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صوبے کے غریب نادار مریضوں کے لئے قائم شدہ بولان میڈیکل ہسپتال اور کالج (بی ایم سی) کی نجکاری کے نوٹیفکیشن پر انتہائی دکھ اور سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اس طرح صوبائی حکومت کی عوام دشمن اقدام کو کھلی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے سنڈیمن صوبائی ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں کے لئے اٹونومس باڈی کا نوٹیفکیشن کرنا دراصل غریب عوام سے سرکاری علاج و معالجہ اور صحت کی بنیادی سہولیات چھیننے کے مترادف ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی مخالفت میں تمام سیاسی جمہوری پارٹیوں، سوشل تنظیموں اور تمام صوبے کے محب وطن اور شہریوں کی جانب سے اس کی مذمت اور نوٹیفکیشن واپس لینے کے لئے آواز بلند کرنا سب کی قومی ذمہ داری بنتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر کی لاکھوں آبادی اور ساتھ ہی صوبے کے دیگر تمام اضلاع کے غریب عوام علاج و معالجے کے لئے سول ہسپتال اور بی ایم سی ہسپتال آتے ہیں۔ پہلے ہی محکمہ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ غریب عوام کو ہسپتالوں میں کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں اور رہی سہی کسر نجکاری کے نوٹیفکیشن سے پوری کردی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غریب عوام پہلے ہی حکومت اور حکومتی اداروں کی رشوت، پرسنٹ، اقرباء پروری، کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ دوسری جانب بدترین مہنگائی، سخت ترین بیروزگاری کے باعث عوام کو ذہنی کوفت کا شکار بنا چکے ہیں۔ تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، گیس، بجلی سے محروم ہیں اور اب سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کرکے صحت کے اخراجات عوام سے پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے، اور صوبے کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا افسوسناک اور قابل گرفت عمل ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر اٹونومس باڈی کے نوٹیفکیشن کو واپس لیکر ان دو بڑے ہسپتالوں میں مزید صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائیں اور عوام کو سرکاری علاج و معالجے سے محروم کرنے کے خلاف پشتونخوا میپ اپنے عوام کی تائید و حمایت کے ساتھ احتجاج پر مجبور ہوں گی، جس کی تمام تر ذمہ داری مسلط حکومت پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں کہا گیا ہسپتال اور غریب عوام عوام کو صوبے کے کے لئے گیا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔